ہاتھ سے کم، مشینوں سے لکڑی پر نقش نگاری کا آغاز وادی میں فرنیچر کے ساتھ ساتھ باہر کی ریاستوں سے ’ ختم بند‘ بھی آنے لگا

مقامی کاریگر وں کیلئے خام مال حاصل کرنا بہت مشکل

بلال فرقانی

سرینگر// وادی میں فرنیچرکے کاروبار سے منسلک طبقہ آہستہ آہستہ بیروزگار بنتاجا رہا ہے کیونکہ باہر کی ریاستوں کا فرنیچر یہاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہورہا ہے۔ اخروٹ اور دیودار کی لکڑی نایاب اور مہنگی ہونے کے نتیجے میں وادی میں در آمد ہونے والی لکڑی کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔لیکن اسکے باوجود’ کشمیری ختم بند‘ اب تک منفرد اور واحد ایسا فن مانا جاتا رہا جو صرف کشمیر میں اور جس کے کاریگر صرف کشمیر میں موجود تھے۔لیکن حالیہ کچھ برسوں میں اخروٹ اور دیوار کی لکڑی کی قیمتیں بڑھ جانے سے باہر کی ریاستوں سے’ ختم بند‘ در آمد کیا جانے لگا ہے۔یہ مقامی’ ختم بند‘ سے سستا ضرور ہے لیکن اخروٹ کی خوبصورتی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔چونکہ کشمیری ختم بند کیلئے درکار اخروٹ کی لکڑی کی حصولیابی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگئی ہے لہٰذا باہر کے ختم بند کو لگانے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔خریداروں کا کہنا ہے کہ باہر کا ختم بند، کشمیری ختم بند جیسا ہے اور اس کی قیمت مقامی ختم بند سے بہت کم ہے۔’ختم بند ‘ کوکشمیری لکڑی کے فن میں ایک خاص مقام ہے اور جیومیٹریکل ڈیزائن میں کٹے ہوئے دیودار لکڑی کے پتلے ٹکڑوںسے کمروں کی چھتیں بنانے میں کارگر وں کی عرق ریزی دیکھنے کو بنتی ہے۔

 

چھتوں کو لکڑی کے چھوٹے ٹکڑوں (ترجیحی طور پر اخروٹ یا دیودار کی لکڑی) کو جیومیٹریکل نمونوں میں ایک دوسرے سے جوڑ کر کے بنایا جاتا ہے۔ پہلے یہ عمل مشینوں کے ذریعے کیا جاتا تھا اور بڑی محنت سے ہاتھ سے تیار کیا جاتا تھا کیونکہ لکڑی کے ٹکڑوں کو خالص طور پر جوڑنے کے ذریعہ ایک ساتھ چپکا ہوا رکھا جاتا ہے۔ لیکن اب کشمیر میں ختم بند مشینوں سے تیار کیا جانے لگا ہے۔ مشرق وسطیٰ سمیت بیرون ملکوں میں’’ختم بند‘‘ کی بڑھتی ہوئی مانگ مقامی کاریگروں کیلئے حوصلہ افزا ہے، لیکن مقامی طور پر بہت کم لوگ ختم بند اپنے مکانوں میں استعمال کررہے ہیں۔محمد شفیع رنگریز نامی کاریگرکا کہنا ہے کہ ختم بند کی طلب قدرے مناسب ہے لیکن کاریگروں کے لیے ایک بڑی پریشانی خام مال کی عدم دستیابی ہے، جو انہیں آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔ کاریگروں کا یہ بھی الزام ہے کہ درست دستاویزات کے باوجود انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور لکڑی دستیاب رکھنے میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

 

شفیع کہتے ہیں’’خام مال کی دستیابی سب سے بڑی پریشانی ہے کیونکہ لکڑی کی نیلامی نہیں ہوتی، اور ہمیں کھلی منڈی سے زیادہ قیمت پر لکڑی ملتی ہے، جو اچھے معیار کی نہیں ہوتی ہے،‘‘ ۔ان کا کہنا ہے کہ ختم بند کاریگر پہلے بالن کیلئے حاصل کی گئی لکڑی میں سے مناسب لکڑی کے ٹکڑوں کا انتخاب کرتے تھے، تاہم اب بالن بھی نایاب ہو گیا ہے۔بشیر احمد نجار نامی کاریگر نے کہاکہ حکومت ایک سال کے لیے لکڑی کا کوٹہ فراہم کرتی ہے لیکن یہ صرف 2 ماہ کے لیے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دم توڑتے شعبے کو فعال بناکر ہنر کی ترقی کے لیے، حکومت کو کاریگروں کو آسان شرح سود پر قرضے فراہم کرنے ہونگے۔ان کا کہنا ہے ’’حکومت کو ہمیں مناسب نرخوں پر خام مال فراہم کرنا چاہیے ‘‘۔تاہم بیشتر ختم بند کاریگر اس کام سے مطمئن نہیں ہیںاور انکا ماننا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس فن سے دور رکھ رہے ہیں۔تاشوان کے ایک کاریگر محمد سبحان کا کہنا ہے کہ وہ، اپنے بچوں کو یہ ہنردینے سے گریزاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے’’ہمارے بزرگ مشکل وقت سے گزرے ہیں اور انہوں نے ماضی میں غربت دیکھی،ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے اس ہنر کو اپنائیں اورہماری طرح تکلیف اٹھائیں‘‘۔طارق جوگی گزشتہ 18 سالوں سے خاتمبند بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا خاندان اکیلے اس ہنر پر زندہ نہیں رہ سکتا۔طارق کہتے ہیں’’ہم زیادہ نہیں کماتے کیونکہ ہمیں زیادہ قیمتوں پر خام مال خریدنا پڑتا ہے۔علی محمد نجار نامی کاریگر کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ختم بند کیلئے 160 سے زیادہ ڈیزائن موجود ہیں، لیکن صرف 100 کے قریب کاریگر ڈائزئن بناتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ فنکاروں نے کھوئے ہوئے ڈیزائن کو نئے ڈیزائنوں میں شامل کیا ہے، جہاں وہ آئینے، رنگوں کے امتزاج اور دیگر چیزوں کے ساتھ تجربہ کرتے ہیں اور اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ نجار کا ماننا ہے کہ وہ آبنوس، ساگون، زیزیفس، نارنجی یا گلاب کی لکڑی کی پتلی چھڑیوں سے بنائی جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا سرینگر میں مدنی مسجد اور خانقاہِ معلی میں ختم بنداور ستونوں پرکی گئی نقش و نگار ی فن کی مثال ہے۔