گول// گول میں بھی رسانہ واقعہ پرشدید احتجاجی مظاہرہ ہوا اور مظاہرین نے مانگ کی کہ قاتلوں کو سخت سے سخت دی جائے اور انہیںپھانسی پر لٹکا یا دیا جائے تا کہ کسی اور ننھی کی زندگی کوئی برباد نہیں کرے ۔ بعد نماز ظہر گول بازار میں ایک ریلی نکلی جس میں بلا لحاظ مذہب م، ملت ، سیاست کے لوگوں نے شرکت کی اور بعد میں لوگ بس اسٹینڈ میں ایک دھرنے کی صورت میں جمع ہوئے جہاں مقررین نے بچی کے بہیمانہ قتل پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا اور قاتلوں کو سخت سی سخت سزا دینے کی مانگ کی ۔ مقررین نے اس موقعہ پر حکومت ہند، ریاست و جموں کشمیر کی سرکار اور عدالتوں سے مطالبہ کیاکہ وہ انصاف کی بنیاد پر بچی کے لواحقین کو انصاف دیں اور جو لوگ قاتلوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں وہ بھی قاتلوں میں ہی شمار ہوتے ہیں ایسے لوگ جو قاتلوں کا ساتھ دیتے ہیں کسی بھی معاشرے کے لئے یہ ناثور سے کم نہیں اور ایسے لوگوں کو بھی بخشا نہیں جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر مذہبی رواداری کی ایک مثال ہے اور یہاں پر ہندو ، مسلم ، سکھ عیسائی یعنی کہ تمام طبقے ایک ہیں اور ایک گھر کی طرح رہتے ہیں لیکن کٹھوعہ واقعہ نے اُن درندوں کو ننگا کر دیا جو معاشرے کے دشمن ہیں اور ان کو باہر کر دیا جائے۔