گول//گول بازارکو جاذب نظر بنانے کے لئے جہاں دکاندروں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے وہیں انتظامیہ کو بھی لازمی بنتا ہے کہ وہ بازارمیں گندگی اور دوسرے مسائل کی طرف دھیان دے ۔ آئے روز گول بازار میں سڑک کی نالیوں اور بازار میں گندگی کے ڈھیر سے جہاں عام لوگ پریشان ہیں وہیں بیچ سڑک میں کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے دکاندار بھی کافی پریشان ہیں ، بازار میں دکانداروں کیساتھ کئی مرتبہ گاڑی والوں کی لڑائی بھی ہوئی اور انتظامیہ و پولیس بھی اس خبر سے باخبر ہے کہ بازار میں کس قدر گندگی کے ڈھیر ہیں اور کس طرح سے نجی و پسنجر گاڑیاں بیچ بازار میں کھڑی رہتی ہیں لیکن اس کے با وجود کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے ۔ اگر چہ پہلے دکانداروںنے بازار کی نالیوں میں جمع گندگی کو یہاں سے اُٹھایا تھا اور بازار میں صفائی ستھرائی کاخیا ل رکھنا بیکن کی بھی ذمہ داری بنتی ہے لیکن بیکن حکام کوئی توجہ نہیں دیتا ہے اور بازار سے گزر رہی نالیوں میں محکمہ جل شکتی کی جانب سے بچھائی گئی پائپیں بھی ایک مصیبت ہے ۔بارشوں کے دوران تمام کوڑا کرکٹ ان پائپوں کی وجہ سے نالیوں میں یہی جمع رہتا ہے اگر چہ ان پائپوں کو بچھانے کے لئے محکمہ کے پاس ایک ضابطہ ہوتاہے جس کے تحت کم از کم از فٹ یہ پائپیں زمین کے اندر دبانی ہوتی ہے لیکن محکمہ زیادہ سے زیادہ رقم جیبوں میں بھرنے کی خاطر تمام جگہوں پرپائپوں کو زمین کے اوپر سے ہی ڈال رہے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بازار کی صفائی اور ستھرائی کے لئے دکانداروں کو اپنا فرض نبھانا چاہئے کہ وہ گندگی کو نالیوں میں نا ڈالیں اور بازار میں جو لوگ کرائے کے کمروں میں رہتے ہیں ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ گندگی کو بازار کی نالیوں میں نا ڈالیں اور جب تک نہ ہم تمام اپنی اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں تب تک مسئلے کا حل بھی نہیں نکلے گا ۔