گوشت کی قیمتوں کا تعین | 2نفری سرکاری ٹیم بیرونی منڈیوں کادورہ کرکے معلومات حاصل کرے گی

سرینگر//حکومت نے  جموں کشمیر سے باہر منڈیوں میں قیمتوں کا احاطہ کرنے اور قیمتوں سے متعلق حقیقت پسندی کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے ایک ٹیم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ رسدات،امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے جاری حکم میں لکھا گیا ہے کہ محکمہ نے افسران کوگوشت کی شرح قیمتوں کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے دہلی ، راجستھان ، پنجاب اور ہریانہ کے ہول سیل بھیڑ بکریوں کی منڈیوں کا دورہ کرنے کیلئے دو نفری ٹیم کو روانہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے’’کمیٹی متعلقہ سرکاری محکموں سے بھی باضابطہ طور پر قیمتوں کے بارے میں دستخط کئے ہوئے دستاویزات کے علاوہ ہول سیل تاجروں ، کمیشن ایجنٹوں سے بھی ماہانہ اور سالانہ شرح کے ڈھانچے کے رجحانات کو حاصل کرنے کے لئے ان سے رجوع کرے گی۔‘‘حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ مذکور ہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ کو مثبت انداز میں پیش کرے گی۔اس سال کے شروع میں ، حکومت نے صوبائی کمشنر کشمیر کی سربراہی میں نامزد کمیٹی کے ذریعہ گوشت نرخوں کو مقرر کیا تھا۔امسال3 نومبر کو صوبائی انتظامیہ کشمیر نے  پرچون گوشت کی قیمت 480 روپے فی کلو مقرر کی تھی، جس کے دوران نظرثانی شدہ شرح  2016 کے نوٹیفکیشن ریٹ سے 40 روپے بڑھا دی گئی ہے۔نئے نرخوں کا فیصلہ گاشت کی قیمت متعین کرنے والی کمیٹی نے کیا تھا ، جو وادی میں فروخت ہونے والے گوشت کے نرخوں میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے سربراہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر ہیں۔تاہم تھوک مٹن ڈیلرز ، قصابوں اور کمیشن ایجنٹوں نے جو میٹنگ کا حصہ تھے ، نے بعد میں اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے کشمیر کے مختلف حصوں میں مسلسل احتجاج کیا۔آل کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن  کے جنرل سکریٹری ، معراج الدین گنائی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کھلی سروے ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا’’کمیٹی کو بند دروازوںمیں بیٹھنے کی بجائے کھلے عام سروے کرنا چاہئے،اورہمیں امید ہے کہ کمیٹی تمام پہلوئوں کو ملحوظ نظر رکھ کر اپنی غیرجانبدارانہ رپورٹ پیش کرے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کشمیر اکنامک الائنس (کے ای اے) نے ایک علیحدہ آزاد کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو جموں و کشمیر سے باہر کی گوشت کی قیمتوں کی شرحوں کا بھی جائزہ لے گی۔گنائی نے کہا’’اس میں سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندوں سمیت تمام متعلقین شامل ہوں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوںکمیٹیاں مثبت اور غیر جانبدارانہ رپورٹس پیش کریں گی۔