منڈی//2005 میں ہائی سکول سے ہائر اسکینڈری کا درجہ پانے والے گرلز ہائر اسکینڈری سکول منڈی میں طالبات کو بیٹھنے کیلئے جگہ میسر نہیں ۔اس سکول میں اس وقت پانچ سو سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں مگر ان کیلئے صرف پانچ کمرے دستیاب ہیں جن میں سبھی کا بیٹھ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن سی بات ہے ۔2005میں منڈی کے اس سکول کادرجہ بڑھایاگیاتھامگر13سال گزر جانے کے باوجود حکومت کی طرف سے اس اسکول میں مناسب تعمیراتی کام نہیں کیاگیا ۔اگر چہ کچھ کمرے تعمیر کئے گئے ہیں مگر وہ 500طالبات کے لئے کافی نہیں۔اس سکول میں4کلاسوںکی طالبات زیر تعلیم ہیں جنہیں بیٹھنے کیلئے جگہ نہیں ملتی اور بارش ہوجانے پر سکول انتظامیہ کو چھٹی کرناپڑجاتی ہے ۔ متعدد طالبات نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکول میں ان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ان کاکہناہے کہ کلاس میں بھی بہت زیادہ طالبات کو بٹھایاجاتاہے جس کی وجہ سے وہ اچھی طرح سے نہیں پڑھ پاتی ۔ان کاکہناہے کہ سکول میں عمارت کا نہ ہونا ان کی تعلیم پر اثرانداز ہورہاہے ۔مقامی سیاسی کارکن شمیم گنائی کاکہناہے کہ عرصہ دراز سے حکومت نے اس اسکول کی عمارت کے چند کمرے تعمیرکئے ہوئے ہیںجو 500سو بچیوں کے لئے کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت سکول کی پرانی عمارت پر ہی دوسرا چھت تعمیر کرے تو کافی حد تک سکول میں جگہ کی کمی دور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت رمسا سکیم کے تحت سکول میں مزید کمرے تعمیر کرے تاکہ اس علاقہ کی غریب طالبات کو تعلیم حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔