گاندھی نگر جموں میں پونیہ بھومی سمان سبھا کے سلسلے میں بھاری عوامی ریلی | پاکستانی زیر انتظام کشمیر واپس لینے پر زور

سید امجد شاہ
جموں//پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کے متاثرین کو یاد کرنے کے لئے اتوار کو پونیہ بھومی میموریل سبھا کے مقررین نے پاکستان سے کشمیر کا وہ حصہ واپس لینے کا عزم کیا۔یہ پروگرام گاندھی نگر میں مختلف تنظیموں کے ذریعہ منعقد کیا گیا تھا جس میں فلم اداکار اور پروڈیوسر مکیش ریشی، پناہ گزینوں/ بے گھر افراد، مذہبی رہنماؤں اور دائیں بازو کے کارکنوں نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں مشہور اداکار اور پروڈیوسر مکیش ریشی نے کہا’’پاکستانی مقبوضہ کشمیرہمارا ہے۔ اس نے ابھی پاکستانی مقبوضہ کشمیر کو واپس لینا شروع کیا ہے اور ہم سب اسے (پاکستان سے) واپس لینا چاہتے ہیں اور عوامی رائے ضروری ہے جس نے اسے واپس لینے کے لیے اس کی حمایت تیار کی ہے‘‘۔ان کامزید کہناتھا’’آپ فکر نہ کریں آج ہم ان سب کے سامنے کھڑے ہیں۔ ہم وہ ہیں جنہوں نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہر چیز کا سامنا کیا ہے”۔انہوںنے کہا کہ میرپور، مظفرآباد، اور پاکستان کے زیر قبضہ دیگر مقامات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی یہی خواہش ہے۔انہوں نے کہا کہ “آپ کی پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی خواہش کوٹلی اور میرپور کے حوالے سے ختم نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری گلیاں، گھر اور سائیکلیں چھیننے کا حق تمہیں کس نے دیا ہے۔ چاہے ہم دنیا کے کسی بھی حصے میں رہیں، میں میرپور کو نہیں بھول سکتا‘‘۔ریشی نے مزیدکہا’’ہم سب ایک جہاز میں سفر کر رہے ہیں اور وقت نے ہم سب کو متحد کر دیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب جموں سے آوازیں بلند ہوں گی یعنی جموں سے ٹرینیں میرپور کے لیے روانہ ہوں گی اور انڈین ایئر لائن کی پروازیں سیدھی پاکستانی زیر قبضہ کشمیرجائیں گی۔ یہ ضرور ہوگا”۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اگر اب بھی کسی کو اس میں کوئی شک ہے تو وہ اسے اپنے ذہن سے نکال دے۔ انہوں نے لوگوں سے متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا”ہم سب متحد ہیں۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ ہم سب اسے اچھی طرح جانتے ہیں”۔جب سوامی وشواتمانند سرسوتی جی سٹیج سے بول رہے تھے اور میرپور، مظفرآباد اورپاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دیگر مقامات سے مہاجرین اور بے گھر افراد کے مصائب کا ذکر کر رہے تھے، لوگ پاکستانی کشمیر کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے تھے۔اس پر انہوںنے کہا’’”ہم PoJK واپس لے لیں گے”۔ اسی طرح مذہبی سکالر سوامی دھرم دیو جی نے بھی ایسی ہی پکار دی۔دریں اثنا، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر جین نے کہا کہ ’’یہ پورے ملک کا عہد ہے جب تک میرپور، مظفر پور اور گلگت بلتستان دوبارہ ہندوستان کے ساتھ متحد نہیں ہوتے، ہماری لڑائی جاری رہے گی۔‘‘اپنی تقریر کے درمیان “لے کے رہیں گے پواو جے کے” جیسے نعرے لگاتے ہوئے، انہوں نے کہا: “وہ دن دور نہیں ہے”۔انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ “کشمیر فائلز پارٹ 2 میں ان لوگوں کے مصائب کو دکھایا جانا چاہئے جو PoJK کے علاقوں جیسے مظفرآباد، میرپور اور دیگر مقامات سے ہجرت کر گئے تھے اور پوری قوم ان (مہاجرین/DPs) کے ساتھ کھڑی ہوگی”۔اس کے علاوہ مہنت منجیت سنگھ جی نے کہا کہ پاکستان نے 60 فیصد سے زیادہ رقبہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور صرف 40 فیصد ہندوستان کے پاس ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سے خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی بھی تعریف کی۔

 

 

پاکستان اور چین کے زیر قبضہ علاقوں کو جلد ہی واپس لیاجائیگا | دفعہ 370کا خاتمہ اب ایک تاریخ بن چکی ہے، واپسی کا کوئی سوال نہیں:ویشو ہند وپریشد 

جموں//پاکستان اور چین کے زیر قبضہ علاقوں کو جلد ہی واپس لایا جائے گا کا دعویٰ کرتے ہوئے ویشو ہند پرشاد کے لیڈر نے کہا کہ آئین میں 370ایک تاریخ بن چکی ہے ۔ جموں کشمیر پیپلز فورم کی جانب سے جموں میںمنعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وی ایچ پی لیڈر اور یونین جوئنٹ جنرل سیکرٹری سریندرا جین نے کہا کہ جموں کشمیر سے دفعہ 370کی منسوخی اب ایک تاریخ بن چکی ہے اوراس کی واپس کا اب کوئی سوال ہی پیدا نہیںہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قبضہ والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی رہائش اور ان کو جو نقصان ہوا ہے ان کی بھرپائی کیلئے حکومت پر زو ر دیا جائے گا جبکہ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جو بھی علاقے چین او ر پاکستان کے زیر قبضہ ہے ان کو بھی جلد ہی واپس حاصل کر لیا جائے گا اور اس کیلئے ہم کمر بستہ ہے ۔ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں خاندانی رول اب ختم ہو چکا ہے اور جنہوں نے جموں کشمیر کو لوٹ لیا ہے ان کا یوم حساب آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک ایک ہے اور جمو ں کشمیر بھی ملک میں مکمل طور پر ضم ہو چکا ہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ جموں کشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں اعلیٰ مقام پر پہنچ چکا ہے اور جموںکشمیر سے دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد اب تعمیر و ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو چکی ہے ۔ وی ایچ پی لیڈر نے کہا کہ دفعہ 370ختم ہو چکا ہے اور اب اس کی واپس ممکن نہیںہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ تاریخ بن چکی ہے اور جموں کشمیر کی ملک میں مکمل طور پر ضم ہو چکا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت جموں کشمیر کے بغیر نا مکمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مرکزی سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ جموں کشمیر میں تعمیر و ترقی کے نئے دور شروع ہو گیا ہے جس کو اونچائی تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔