گاندربل عوام کیساتھ استحصال کیا گیا: الطاف بخاری

سرینگر//اپنی پارٹی صدرسید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ ضلع گاندربل جموں وکشمیر میں وی آئی آئی پی حلقہ کلچر کے متاثرین کی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا’’ بدقسمتی سے وہ لیڈران، جنہیں گاندربل کے لوگ سال 1970سے لگاتار منتخب کر تے رہے ہیں ،انہوں نے  لوگوں کے اندھے اعتماد کا  استحصال کیا۔ انہوں نے کہا’’مرحوم شیخ عبداللہ گاندربل سے 1975اور1977میں منتخب ہوئے تھے،  اُن کے فرزند فاروق عبداللہ نے 1983, 1987اور1996میں انتخابات جیتے۔عمر عبداللہ نے گاندربل سے  2008میں اسمبلی الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ اتنابھاری عوامی منڈیٹ ملنے کے باوجود حکمرانوں نے رائے دہندگان کے معیار ِ حیات کو بہتر بنانے اور اُن کی مشکلات کا ازالہ کرنے پرتوجہ نہیں دی جس کی وجہ سے گاندر بل میں ترقیاتی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ بخاری نے سوال کیاکہ کیوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی قیادت والی منتخب حکومتیں پاور ڈولپمنٹ کارپوریشن کی طرف سے تمام مطلوبہ لوازمات مکمل کرنے کے بعد بھی گاندربل میں 93میگاواٹ پن بجلی پروجیکٹ کی الاٹمنٹ کرنے میں ناکام رہیں۔ بخاری نے کہا’’دو وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی الاٹمنٹ میں تاخیر کے لئے جوابدہ ہیں، گاندربل کے رائے دہندگان کو یہ لیڈران اپنی وراثتی جائیداد سمجھتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ نئے گاندربل پن بجلی پروجیکٹ کی کامیاب بولی دو مرتبہ لگائی گئی جس کا اعلان ستمبر2014میں بھی کیاگیا لیکن کیوں سابقہ حکومتوں نے پروجیکٹ کی الاٹمنٹ نہ کی، اگر پی ڈی سی نے پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھا دی تھی تو الاٹمنٹ میں غیر ضرور ی تاخیر کی وجوہات کا اندازہ ہرکوئی لگا سکتا ہے‘‘۔اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کی اقتصادی بنیاد مسلسل بدحالی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوگئی ہے اور اب لوگوں کو خوابوں اور حقائق کے مابین فرق معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر نے کنونشن سے کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے مناسب پالیسی ردعمل کی اشد ضرورت ہے تاکہ جموں و کشمیر میں نجی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔