راجوری//باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے پالی ٹیکنک کالج میں آج’’اخلاق وآداب‘‘کے موضوع پر ایک روزہ سیمی نارمنعقد کیا گیاجس کا مقصد یہ تھا کہ کالج میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو اخلاق حسنہ اور آداب زندگی سے روشناس کروایا جائیکیونکہ اکیسویں میں جہاں سوشل میڈیا نے ترسیلی اور معلوماتی دروازے کھول دیئے ہیں وہیں دوسر ی جانب یونیورسٹیوں ،کالجوں اور اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات اس کامنفی استعمال کرکے ایک طرح کی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ سے دوچار ہورہے ہیں۔اس سیمی نار میں شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد وانی اور اعجاز میر اسسٹنٹ پروفیسر سیول انجینئرنگ کالج باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجور ی بطور مہمان موجود تھے۔ان دونوں مہمانوں نے اخلاق وآداب پر ذہن کشا لیکچر دیے۔ڈاکٹر مشاق احمد وانی نے علامہ اقبال کے اشعار سے اپنے لیکچر کاآغاز کیا۔انھوں نے کہا کہ انسان کے اچھے اور برے اعمال کادارومدار اس کی نیت پر ہے۔اگر نیت اچھی ہوگی تو اعمال بھی اچھے ہونگے اور اگر نیت بری ہوگی تو اعمال بھی برے سرزد ہونگے۔انھوں نے بڑے عالمانہ انداز میں اس بات پہ زور دیا کہ ہم سب کوآج یہ مصمم ارادہ کرکے یہاں سے اٹھنا چاہیے کہ ہم اچھے اخلاق وآداب کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ہر حال میں نیک کام کریں گے اور برائی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔اعجاز میر نے کہا کہ ہم بہت زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اگر انسانیت کی خوشبو سے محروم رہے یااچھے اخلاق وکردار سے عاری رہے تو ہم نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔انھوں نے مختلف مثالوں سے اس بات پہ زور دیا کہ آج کے آدمی کے پاس زندگی کے تمام وسائل موجود ہیں لیکن اسے سکون قلب میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی انتشار واختلال میں مبتلا ہے۔اس ذہنی انتشار سے نکلنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم انسانی قدروں کو فوری طور پر دل وجان سے اپنائیں اور اپنے آپ کو اچھے اخلاق وکردار کا نمونہ بناکر لوگوں کے سامنے آئیں۔پالی ٹیکنک کالج کے پرنسپل ملک مبشر حسن نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت اور رجسٹرار پرویز اقبال کا طلبہ و طالبات میں ا چھے اخلاق وکردار پیدا کرنے کی پالیسی کو سراہا کہ جن کے مفید اور کار آمد مشوروں سے آج کایہ پروگرام منعقد کیا گیا۔انھوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ موبائل اور انٹر نیٹ بنانے والے لوگوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ یہ چیزیں تیار کی ہیں اور ان کی انتھک محنت کا یہ نتیجہ آج کے اور آنے والے انسانوں پر بہت بڑا احسان ہے لیکن انھوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا ہے کہ آپ اس کے ذریعے براء کو فروغ دیں۔یہ ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم ہروقت اور ہرحال میں اس کا صحیح اور جائز استعمال کریں۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ آج کے نوجوان مختلف طرح کے نشے کرتے ہیں جو ان کی زندگی کو تباہ کرتے ہیں۔لہذا ہم سب کوبری عادتوں اوران چیزوں سے دور رہناچاہیے جو ہمارے لیے مضر ہیں۔پالی ٹیکنک کالج کے لیکچرر شویندر مہتہ نے اخلاق وآداب کے حوالے سے اس بات پہ اظہار تاسف کیا کہ آج کے والدین اس بات پہ ترستے ہیں کہ وہ ان کے سکھ دکھ میں شریک ہوں لیکن اولاد کی بے اتفاقی ان کو مایوس کرتی ہے۔اس لیے ہم سب پہ فرض عاید ہوتا ہے کہ ہم اپنے والدین کا ہرحال میں خیال رکھیں۔نظامت کے فرائض لیکچرر شوکت مقبول نے انجام دیے۔ان کے علاوہ کالج کے اسٹاف ممبران میں رفیق احمد؛فاروق احمد،امت دسگوترہ،عاطف محمود،امن دیپ سنگھ،ساحل حمید ،مختیار احمد محترمہ پرنسس رعنہ کے علاوہ طلبہ وطالبات کی ایک بھاری تعداد موجود تھی۔