کیدورہ اورگلاب گڑھ کارابطہ منقطع ،انتظامیہ خواب غفلت میں مبتلا

عوام اورطلباء جان ہتھیلی پررکھ کردریاعبورکرنے پرمجبور،تعلیم بری طرح متاثر

مہور//مہورکے گلاب گڑھ علاقہ میں لوگوں کاپریشانیوں کے ساتھ چولی دامن کاساتھ ہے جہاں ایک طرف لوگ بجلی،پانی ،سڑکوں کی سہولیات نہ دارد ہیں وہیںہائرسکینڈری سکول گلاب گڑھ میں شبراس،نہوچ،ڈوگا،اڑبیس،دیول وغیرہ دیہات کے زیرتعلیم طلباء کوسکول پہنچنے اورلوگوں کوگلاب گڑھ جانے سے پہلے ایک دریاکوعبورکرناپڑتاہے جس کی وجہ سے کوئی بھی شخص کے دریامیں ڈوبنے کاخطرہ رہتاہے ۔اگرچہ دریاعبورکرنے کیلئے ایک لکڑی کاپل تھاجوتین ماہ قبل منہدم ہوگیاتھاجس کی وجہ سے آج تک لوگ بالخصوص طلباہرروزسکول نہیں پہنچ پارہے ہیں اورجوطالب علم سکول پہنچتے بھی ہیں تووہ جان ہتھیلی پررکھ کردریاکوعبورکرتے ہیںجبکہ انتظامیہ غفلت کی نیندسورہی ہے۔مزیدتفصیلات کے مطابق مہور کے گلاب گڑھ علاقہ میں کیدورہ اور گلابگڑھ کوآپس میں جوڑنے والادلواڑن پل تین ماہ قبل منہدم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے مقامی لوگوںبالخصوص ہائرسکینڈری سکول گلاب گڑھ کے طلاب کوپریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں کاکہناہے کہ دریا میں پانی بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے دریا کوعبور کرناجان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ ہائرسکینڈری سکول گلاب گڑھ میں شبراس،نہوچ،ڈوگا،اڑبیس،دیول وغیرہ سے طلباء تعلیم حاصل کرنے کیلئے آتے لیکن انہیں اس کودریا کو عبور کرنے میں پریشانی ہوتی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دلواڑن میں ایک لکڑی کا بنایا ہوا پل تھا جو گلاب گڑھ علاقہ کے ساتھ ملاتا ہے لیکن تین ماہ قبل وہ پل بھی ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ آئے روزپریشانیاں جھیل رہے ہیں۔اس بارے میںکیدورہ کے فرید احمدنامی شخص نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں نے کئی مرتبہ انتظامیہ کے نوٹس میں یہ بات لائی ہے کہ اس پل کو تعمیر کیا جائے لیکن صرف جھوٹی یقین دہانیوں کے سوا انتظامیہ سے لوگوں کوکچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔اس نے کہا کہ لوگوں کا گلاب گڑھ کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیاہے ۔لوگ جان جوکھم میں ڈال کردریا عبور کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہروقت حادثے کاخطرہ لاحق رہتاہے ۔اس بارے میںمقامی طلباء نے بتایا کہ ان کو اسکول دریا عبور کر کے جانا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی پڑھائی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے اوردریاپرپل نہ ہونے اورلکڑی کاپل ٹوٹ جانے سے طلباء روزانہ اسکول نہیں جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ برسات کا موسم بھی دوماہ کے بعدآجائے گاجس میں دریا میں پانی کی سطح مزیدبڑھ جائے گی اوراس صورت میں طلبابالکل بھی سکول نہیں پہنچ پائیں گے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ پل کو جلد سے جلد تعمیر کیا جائے تاکہ کسی بھی طرح کا کوئی نقصان نہ ہو۔