کیا جموں میں مسلمان ہونا گناہ ہے؟:انجینئر رشید

سرینگر//بھدرواہ میں نتھلی کے مقام پر نام نہاد گائو رکھشکوں اور وی ڈی سی ممبران کی طرف سے نعیم بٹ نامی شہری کو بلا وجہ گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اے آئی پی سربراہ انجینئر رشید نے الزام لگایا ہے کہ جموں خطہ میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی ہیں اور پوری انتظامیہ فرقہ پرستوں کی لونڈی بن کے رہ گئی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا ’’ایک طرف سرکار نے پارلیمانی انتخابات کے وقت لائیسنس یافتہ بندوق برداروں سے اپنے ہتھیار متعلقہ تھانوں میں جمع کرنے کی سختی سے ہدایت کی لیکن دوسری طرف فرقہ پرست دہشتگردوں پر اس حکمنامہ کا نہ کوئی اطلاق ہوا اور نہ کوئی اثر ۔ انتظامیہ کو اس بات کا بغیر کسی بہانہ بازی کے جواب دینا چاہئے کہ آخر ان دہشتگردوں کے پاس ہتھیار کہاں سے آئے اور نہتے مسلمانوں پر وقفہ وقفہ سے وار کرنے کا حکمنامہ آخر کون دیتا ہے ۔ نعیم بٹ کا قتل ایسا پہلا واقعہ نہیں اور جس طرح انتظامیہ نے ماضی میں بھی قاتلوں کو چھوٹ دے رکھی ہے اسے شہہ پا کر ایک مرتبہ بھی بھدرواہ میں بے گناہ شخص کا قتل کیا گیا ‘‘۔ انجینئر رشید نے الزام لگایا کہ جموں میں سیول اور پولیس انتظامیہ فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھوں بے بس ہو چکی ہے اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ واقعہ میں ملوث مجرموں کی فوری گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انجینئر رشید نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ وی ڈی سی کے نام پر ہندو انتہا پسندوں کو دئے گئے تمام ہتھیار بغیر کسی عذر کے واپس لئے جائیں کیونکہ پولیس اور دیگر ایجنسیاں بخوبی کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔