بٹوت//تین ماہ قبل ریاست جموںوکشمیر کے ضلع کٹھواہ کی تحصیل ہیرانگر میں آٹھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ کچھ مقامی درندہ صفت انسانوں کی جانب سے انجام دی گئی آبروریزی اور قتل کی گھناونی واردات کے ملزمان کے ساتھ ہمدردی اور بظاہر بڑی بے شرمی سے اُن کے بچائو میں کھڑے نظر آرہے جموں بار ایسوسی ایشن کے مٹھی بھروکلاء اورریاستی مخلوط حکومت کے باجپا سے تعلق رکھنے والے دو وزراء کے راویعے پرغم و غصے کی کفیت سے دوچارقصبہ بٹوت کے عوام نے گذشتہ روز بلا لہذ مذہب ملت اپنے غم وغصے کا اظہار کرنے کے لئے مظاہرہ کیا۔ اس سلسلے میں تحصیل بٹوت کے عوام نے بٹوت بازار میں ایک ریلی کا اہتمام کیا جس میں قصبے کے ہزاروںلوگوں نے شرکت کی۔احتجاج میں شامل لوگوں نے اس موقعہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوںکے سامنے اپنی بات رکھتے ہوے کہایہ بڑے دکھ اور افسوس اور شرم کی بات ہے کے ہمارے سماج کا ایک باشعور تعلیم یافتہ طبقہ اور سیاسی پارٹیوںسے وابستہ لیڈران جن کی اپنے سماج کے لئے بڑے ہیاحساس نوعیت کی ذمہ داریاںہیں وقتی طوراپنے حقیر مفادات کی آبیاری اورناانصافی پر مبنی جذباتی وابستگی کی رو میں بہہ کرغلط راستہ اور رویش اختیارکرتے ہیں اپنے لوگوںاور سماج کیلئے باعث شرم وتکلیف بنتے ہیں اور ایساعمل انجام دیتے ہوے ان لوگوں کو زرا سی شرم وحیا محسوس نہیں ہوتی ہے۔ان لوگو ں نے کہا معصومہ مرحومہ کے ساتھ بدفعلی اورپھراس کابے دردی سے قتل کر دینے والے ملزمان کے خلاف ریاستی پولیس کا کرائم وینگ ،تعینات عملہ بڑی ہی ایمانداری سے اپنی پیشہ وارنہ ذمہ داریاں انجام دینے میں مشغول عمل ہے۔ لہذا ہماری طرح ریاست وملک کے ایک ارب پنتیس کروڑ عوام آٹھ سالہ معصوم کے ساتھ رونما ہوے درد ناک و شرم ناک واقع پر غم زدہ وپشمان ہیں اور اس سلسلے میںمعصوم مرحومہ کی روح کو انصاف دلانے کی خاطر جموں کشمیر پولیس کی تحقیقات اوراب تک کی کارروائی سے مطمین ہیںان مشکل حالات اوردبائو میں ایمانداری اور حوصلے وہمت سے اپنی پیشہ وارنہ ذمہ داریاں انجام دے رہی جموں کشمیرپولیس کا کرائم برانچ شعبہ قابل رشک ومبارک باد کا مستحق ہے ۔ تحصیل بٹوت میں ہو ے اس احتجاجی مظاہرے کوبٹوت سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی ،مذہبی،سماجی پارٹیوں اور مقامی تنظیموں کے لیڈران اورعوام کی تائید وحمائیت حاصل تھی۔