جمہوری سیاست میں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ عوام کی بات ارباب اقتدار تک پہنچاکر اوراس کی شنوائی ہوکر جمہوریت کے ’عوامی ‘ہونے کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے ’جد وجہد‘کی خاطر قائم گپکار الائنس کا وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت میں24جون کو ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کا فیصلہ نہ صرف اہمیت کا حامل تھا بلکہ ایک ایساقدم بھی جس سے اس اتحاد ګکی آئندہ سیاسی سرگرمیوں کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ الائنس کی اہم اکائیاں یعنی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی بہر حال ایسی سیاست کا حصہ ہیں جس میں جمہوری سرگرمیوں کے اندر شمولیت کو اولیت حاصل ہے تاکہ اقتدار تک رسائی میں مدد مل سکے۔ان جیسی سیاسی جماعتوں کا عقیدہ ہے کہ صرف انتخابات اور ان کے نتیجے میں پیدا صورتحال کے ذریعے سے ہی عوام کے جذبات اور احساسات کی جمہوری طرز پر نمائندگی کا امکان ہوتا ہے۔حالانکہ بیشتر سیاسی سائنسدانوں کا اتفاق ہے کہ سیاست محض انتخابات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا وسیع سبجیکٹ ہے جس کا احاطہ عوامی زندگی کے بیشتر پہلوئوں پر ہوتا ہے۔
بہر حال جموں کشمیر کی سبھی مین اسٹریم پارٹیوں نے نئی دلی کی دعوت قبول کی اوروزیر اعظم کے ساتھ کم و بیش ساڑھے تین گھنٹوں تک میٹنگ میں شریک رہے۔یہ اہم نہیں ہے کہ میٹنگ کا نتیجہ کیا نکلا ،بلکہ یہ میٹنگ فوری نتائج کے حصول کیلئے منعقد نہیںکی گئی تھی۔ گذشتہ دو سال کے دوران نئی دلی اورخاص کر کشمیر سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات کے مابین دوریاں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ اُنہیں پاٹنا ضروری بن گیا تھا۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر تو نئی دلی کی طرف سے ’خاندانی پارٹیاں‘،’بد عنوانیوں میں ملوث پارٹیاں‘ یہاں تک کہ’ملک دشمن پارٹیاں‘ تک کے الزامات عائد کئے گئے اور ، ’گپکار گینگ‘ بھی کہا گیا ۔پھر مذکورہ پارٹیوں کے ساتھ ساتھ دیگر چھوٹے بڑے گروہوں کے سبھی سرکردہ ذمہ داروں اور کارکنان کو خصوصی جیلوں کے اندر حراست میں رکھا گیا۔ان ساری کارروائیوں سے نئی دلی اور مذکورہ سیاسی شخصیات کے درمیان فاصلہ قابل ذکر حد تک بڑھ گیا تھا۔چونکہ صدر راج یا گورنر راج کوئی مستقل نظام حکمرانی نہیں ہوتا ہے اس لئے ایک مخصوص مدت کے بعد اُس کو ’عوامی حکومت‘ سے بدلنا پڑتا ہے جس کیلئے اقتداری سیاست پر یقین رکھنے والی پارٹیوں کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ کہنے اور دکھانے کو ہی سہی، ایک انتخابی دنگل کا اہتمام کیا جائے ،جس میں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے والے اور عوام کو مختلف نوعیت کے خواب دکھانے والے شرکت کرکے اعداد و شمار پر مبنی انتخابی نتائج پیدا کرنے میں سٹیٹ کی معاونت کرتے ہیں۔
جموں کشمیر میں ’عوامی حکومت‘ چونکہ گذشتہ دو سال سے زیادہ عرصہ سے مفقود ہے جس کو لیکر بیرون دنیا میں کبھی کبھی کوئی آواز سنائی دیتی ہے یا کبھی کبھی بیانیہ تیار کرنے کیلئے جان بوجھ کر بلند کرائی جاتی ہیں۔ ان آوازوں کو بند کرنے کیلئے بھارت کو یہاںانتخابات کے انعقاد کیلئے ایک خاص ماحول تیار کرنے کی ضرورت ہے۔باہری دنیا، جو بظاہر جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، میں ایک شورش زدہ خطے میںانتخابات کے انعقاد کو’پولٹیکل پراسیس‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس ’پراسیس‘ کے کامیاب انعقاد کا ایک تجربہ نئی دلی نے1996میں کیا جب حالات ایسے تھے کہ اُسے محض نیشنل کانفرنس پر ہی تکیہ کرنا پڑاتھا۔ لیکن تب سے اگر جہلم کے اندر کافی پانی بہا ہے تو نئی دلی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی تھی۔اب صرف فاروق عبد اللہ نہیں بلکہ کشمیر میں نئی دلی کے’پولٹیکل پراسیس‘ کی کامیابی کیلئے ایک سے بڑھ کر ایک مہارتی تیار بیٹھا ہے جو فقط ایک اشارے کے منتظر ہیں۔اب اگر اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی علاقائی سیاسی قوتوں کا بھی تعاون شامل حال رہے ،تو نئی دلی کیلئے وارے نیارے ہیں!۔
کئی مبصرین کا ماننا ہے کہ گپکار اتحاد یہاں کی ’پولٹیکل پراسیس‘ کو مقبولیت فراہم کرنے کی شرط پر نئی دلی کے ساتھ بارگین کرنے کی حالت میں ہے۔بالفاظ دیگر بیانات کی حد تک ہی سہی گپکار الائنس ابھی قائم ہے اس لئے اُمید کی جاسکتی ہے کہ یہ اتحاد اپنے مقصد ِقیام کو لیکر سنجیدہ اقدامات کرے گا۔ ویسے بھی وزیر اعظم نریندرمودی سے اُن کی سرکاری رہائش گاہ واقع لوک کلیان مارگ نئی دلی پر ساڑھے تین گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد کشمیری مین اسٹریم لیڈران خاص کر گپکار اتحاد کے نمائندے اور کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اس بات کو لیکر پھولے نہیں سما رہے تھے کہ وزیر اعظم نے اُن کی باتیں غور اور دلچسپی کے ساتھ سنیں۔
سیاسی نوعیت کے معاملات میں علامات کا خاص کردار ہوتا ہے، چونکہ جب تک گپکار الائنس قائم ہے تب تک عوام کے اذہان میں بھی جموں کشمیر کے خصوصی درجے کی باتیں گونجتی رہیں گی، ایک بار یہ اتحاد ٹوٹ یا موقف کو لیکر کمزور پڑگیا تو عوام کے اذہان سے بھی خصوصی آئینی دفعات سے متعلق باتیں آہستہ آہستہ شام کے ڈھلتے سایوں کی طرح غائب ہوجائیں گی۔ہاں، مورخ تو اپنا کام کرتا رہے گا، لیکن اُس کے ریکارڈ کے نتائج منظر عام پر آنے کے وقت تک جہلم سے مزید پانی بہہ گیا ہوگا۔
گپکار اتحاد کے لیڈران نے سرینگر سے نئی دلی اور بعد میں نئی دلی سے سرینگر تک کئی بیانات دیئے، جن کا لب لباب یہ تھا کہ اُنہوں نے بقول اُنکے کل جماعتی میٹنگ کے دوران اتحاد کے ایجنڈا کی بھر پور وکالت کی۔لیکن غلام نبی آزاد کی سنیں تو’’ کسی نے بھی دفعہ370سے متعلق زیادہ بات نہیں کی‘‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ کا بھی کہنا تھا’’بد قسمتی سے بیگ صاحب اور آزاد صاحب نے دفعہ370کے معاملے کو سب جوڈیس قرار دیا‘‘۔
اپنے مطالبے کی وکالت کرتے ہوئے گپکار الائنس کے لیڈران کو ماہرین سیاست کی یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اعتماد سازی کے اقدامات اور مقاصد ومطالبات الگ الگ اصطلاحیں ہیں اور دونوں کو خلط ملط کرکے نہ صرف مقصد ہاتھ سے چلا جاتا ہے بلکہ سیاست دانوں کی ساکھ بھی متاثر ہوجاتی ہے۔بعض مطالبات ایسے ہوتے ہیں جن کے پورا ہونے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے تاکہ ضروری قانون سازی کے ذریعے مذکورہ مطالبات کو ایڈریس کیا جاسکے ۔ایسے مطالبات کو پورا کرنے تک بے شک اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا جاسکتا ہے لیکن اصل توجہ بنیادی مطالبے پر ہی مرکوز رہنی چاہئے۔ مخالف دھڑے سے اپنے مطالبات منوانے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس معقول دلیل ہو اور وہ آپ جذبات میں بہہ کر نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں پیش کریں۔ جذبات کی رو میں بہہ کر اکثر معاملات بگڑ جاتے ہیں۔
جموں کشمیر کے عوام ایک طویل عرصہ سے جن حالات میں جی رہے ہیں اُنہوں نے اُنہیں مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رکھا ہے۔ اُنہیں لگتا ہے کہ اُن کا کوئی خیر خواہ نہیںہے اور نہ اُن کے احساسات کا کوئی ترجمان ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کی مین اسٹریم سیاسی جماعتیں عوامی حلقوں کے اندر اچھا مقام نہیں رکھتی ہیں۔ ان پارٹیوں کا ماضی بھی اتنا شاندار نہیں ہے کہ جس کو پیش کرکے عوامی حلقوں کو لبھایا جاسکے۔ اب ان سیاسی پارٹیوں کوایک موقع فراہم ہوا ہے کہ وہ عوامی حلقوں کے اندر اپنی بگڑی شبیہ کو ٹھیک کریں ۔ ایسا تب ہوگا جب مذکورہ پارٹیاں اقتداری سیاست کے وقتی مراعات اور پارٹی مفادات سے اُوپر اُٹھ کر عوامی جذبات اور احساسات کی نمائندگی کریں گی۔ایسا کرنے کیلئے اُنہیں نئی دلی کے قریب جانے سے بھی کوئی ٹوکنے والا نہیں ہے کیونکہ وہ مزاحمتی خیمے سے نہیں بلکہ بھارت نواز خیمے سے وابستہ ہیں۔وہ روزانہ بنیادوں پر اپنی بھارت نوازی ثابت کرنے کے حق میں بیانات جاری کریں تو کریں ،لیکن اُن کے اذہان سے یہ حقیقت کبھی زائل نہیں ہونی چاہئے کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن کی رکھوالی کے اصولی ذمہ دار تھے اور وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اب ان پارٹیوں نے مذکورہ پوزیشن کی بحالی کا کام ہاتھ میں لیا ہے اور اس لئے یہ اُن کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں دیانتداری کا مظاہرہ کریں کیونکہ اُن کی سیاست کی بنیاد اسی ایک ’’خصوصی پوزیشن‘‘ پر قائم رہی ہے۔ جب تک وہ اپنی اس بنیاد کی زور دار اور مخلصانہ وکالت کرتی رہیں گی، اُن کی بقا بھی قائم رہے گی، ایک بار وہ اپنی بنیادی سیاست سے منحرف ہوئیں تو اُن کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ جس عوام کا اُنہیں اب سامنا ہے وہ پہلے سے مختلف ہے اور نون میں نقطہ تلاش کرنے کے ہنر سے بخوبی واقف بھی۔