کولگام میں جھڑپ کے بعد جنگجو فرار| شوپیان میں خاتون ایس پی او ہلاک

کولگام+شوپیان // فرصل یاری پورہ علاقے میں جنگجوئوں اور فوج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا  ہے جس کے بعد علاقے کو محاصرے میں لیا گیا اور اسکے ساتھ ہی یہاں فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ واقعہ کے فوراً بعد علاقے میں انٹر نیٹ سہولیات منقطع کردی گئیں۔ادھر شوپیان کے ایک مضافاتی گائوں نے مشتبہ جنگجوئوں نے ایک جواں سال لڑکی ایس پی او کو ہلاک کردیا۔

کولگام

 مقای لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جنوبی کشمیر ضلع کولگام ہیڈکوارٹر سے قریب 15کلو میٹر دور فرصل یاری پورہ کے نزدیک ٹینگہ بل کجر نامی گائوں سے سہ پہر پانچ بجے فوج کی ایک گشتی پارٹی جارہی تھی جس پر جنگجوئوں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔اس موقعہ پر طرفین میں فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا جس کے ساتھ ہی فورسز نے مزید کمک طلب کر کے گائوں کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دوران نوجوان گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے فورسز کو محاصرہ کرنے سے روکا جس کے بعد طرفین میں جم کر جھڑپیں ہوئیں جو رات دیر گئے تک جاری رہیں۔لوگوں نے بتایا کہ علاقے کو پہلے محاصرہ میں نہیں لیا گیا تھا،بلکہ فوج کی ایک پیٹرولنگ پارٹی پر جنگجوئوں نے حملہ کیا تھا۔انکا کہنا تھا کہ یہ افواہ پھیلی تھی کہ شاید ایک جنگجو جاں بحق وا ہے لیکن اسکی لاش بر آمد نہیں کی جاسکی۔مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ گائوں زیادہ بڑا نہیں ہے جس کے چاروں طرف دھان کے کھیت ہیں اور سفیدے کی گھنی نرسریاں قائم ہیں جس کی وجہ سے فورسز کو تلاشی لینے میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔جھڑپ ہونے کیساتھ ہی علاقے میں انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی اور فورسز کی اضافی تعداد یہاں لائی گئی۔رات دیر گئے تک نوجوان شدید پتھرائو کررہے تھے جنہیں منتشر کرنے کیلئے شلنگ اور پیلٹ کا استعمال کیا جارہا تھا۔

شوپیان

شوپیان کے ایک مضافاتی گائوں میں مشتبہ جنگجوئوں نے محکمہ پولیس کام کررہی 17سالہ خاتون ایس پی اوکو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں گزشتہ چند روز کے دوران اب تک تین افراد کو ہلاک جبکہ بجبہاڑہ میں ایک سیاسی کارکن کو گولی مار کر زخمی کیا جاچکا ہے۔شوپیان کے وہیل نامی گائوں میںلڑکی کی ہلاکت کے بارے میںاسکے والدمنظور احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ دوپہر اڈھائی بجے کے بعد اپنے صحن میں بیٹھے تھے،کہ اس دوران دو نوجوان صحن میں داخل ہوئے، جن میں ایک نقاب پوش تھا جبکہ ایک کے سے پر ہیلمٹ تھا اور ایک کاپی انکے ہاتھ میں تھی، جس پر وہ کچھ لکھ رہے تھے۔منظور احمد نے بتایا کہ انہیں لگا کہ یہ کوئی سرکاری ملازمین ہیں لہٰذا ہم نے انہیں گھر کے اندر لیا، تاکہ چائے وغیرہ کا انتظام کریں۔منظور نے کہا کہ ابھی وہ گھر کے اندر داخل ہونے جارہے تھے کہ بندوق برداروں کی نظر انکی بیٹی خوشبو جان پر پڑی ،جو گھر کے اندر ایک کمرے میں تھی ۔منظو ر نے کہا کہ خوشبو کو دیکھتے ہی انہوںنے اسکے سر پر گولی مار دی اور بھاگ گئے۔اہل خانہ اور پڑوسیوں نے لڑکی کو اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھی۔وہ پولیس میں بطور ایس پی او کام کررہی تھی۔خیال رہے ایک ہفتے کے دوران جنوبی کشمیر میں شوکت احمد نائیک ساکن پنگلنہ پلوامہ(دکاندار)،منظور احمد لون ڈوگری پورہ اونتی پورہ  پلوامہ کو ہلاک کیا گیا جبکہ بجبہاڑہ میں این سی کے ایک عہدیدار کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا۔