کشمیر کا فوجی حل نہیں، ثالثی کیلئے تیار

نئی دہلی // ناروے کی خاتون وزیر اعظم سول برگ نے کہا ہے کہ انکا ملک کشمیر معاملہ پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے پر تیار ہے لیکن اسکے لئے دونوں ملکوں کی باہمی رضامندی لازمی ہونی چاہیے۔این ڈی ٹی وی کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے سول برگ نے کہا کہ کشمیر مسئلہ کا کوئی حل صرف فوجی نظریئے سے نہیں نکل سکتا، بلکہ اسکے لئے مضبوط عوامی حمایت ہونی اہم ہے۔انکا کہنا تھا’’ اگر بھارت اور پاکستان کو ناروے کی ثالثی میں کوئی دلچسپی ہوگی تو ہم کوئی میکانزم تیار کریں گے جو ہماے پاس موجود ہے،ہم دنیا کے مختلف ممالک میں کافی عرصے سے اس طرح کام کرتے رہے ہیں،لیکن ہم بنیادی طور پر  اس بات کے بھی حامی ہیں کہ دونوں ملک آپس میں مل بیٹھ کر اس پر بات چیت کریں، اس کے بعد بیشک ثالثی کی ضرورت ہے،ایک مصالحت کار کی ضرورت،حالانکہ یہ دونوں ملک بہت بڑے ہیں یہ اپنے طور پر بھی  اس معاملے پرآپسی اختلافات کو حل کرسکتے ہیں‘‘۔جب ان سے سابق وزیر اعظم ناروے  جل منگے بونڈویک کے اس خیال  سے متعلق پوچھا گیا کہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے تو انہوں نے کہا’’میں نہیں سمجھتی کہ اس طرح کے کسی مسئلے کا کوئی فوجی حل ہوسکتا ہے،میرے خیال مں اسکے لئے آپکو عوامی حمایت ہونی چاہیے،آپکو ان تمام فریقین کے درمیان بھروسہ قائم کرنا چاہیے جہاں  ایسے تنازعات ہیں، لیکن اسکے لئے کوئی خاص معنی نہیں کہ کشمیر کا کوئی فوجی حل ہوسکتا ہے یا نہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ کہ کوئی بھی بات آگے بڑھانے کیلئے آپکو خواتین اور نوجوانوں کو امن عمل میںشریک کرنا ہوگا، تب مستحکم امن لانا ہوگا جہاں تنازعہ چل رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ناروے کے سابق وزیر اعظم کا دورہ کشمیر یا ہندوپاک سرکاری نہیں تھا، بلکہ وہ ذاتی طور پر دعوت پر آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو لگاتار بات چیت کرنی چاہیے، انہیں فوج پر اخراجات میں کمی کرنی چاہیے،میرے خیال میں 1947سے آج تک ایک لمبا اور طویل عرصہ گذر گیا ہے، لہٰذا دونوں ملکوں کو آپسی کشیدگی کم کرنی چاہیے، کہیں سے تو آغاز ہو۔