کشمیر میں موسم خشک وخوشگوار، قومی شاہراہ ٹریفک کے لئے بحال

سری نگر// وادی کشمیر کے بیشترعلاقوں میں شبانہ درجہ حرارت میں قدرے گراوٹ درج ہونے کے بیچ موسم خشک و خوشگوار ہے اور جمعرات کو صبح سے ہی ہلکی دھوپ چھائی رہی۔
 
ادھر وادی کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- جموں قومی شاہراہ نچھلانا علاقے میں مٹی کے تودے گر آنے کے باعث کئی گھنٹوں تک بند رہنے کے بعد جمعرات کو ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے کھول دی گئی۔
 
ایک ٹریفک عہدیدار نے بتایا کہ رام بن سے بانہال کے بیچ پڑنے والے نچھلانا علاقے میں مٹی کے تودے گر آنے کی وجہ سے سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل میں خلل واقع ہوئی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ شاہراہ سے ملبے کو صاف کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر مشینری اور نفری کو کام پر لگا دیا گیا اور شاہراہ کو قابل آمد و رفت بنا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہ پر پہلے درماندہ گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت ہے۔
 
وادی کے بیشتر علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت میں قدرے گراوٹ درج ہونے کے بیچ موسم خشک و خوشگوار ہے۔
 
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں 15 مارچ تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔
 
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 5.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت 5.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی3.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب منفی0.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت 4.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت3.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت 4.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
 
دریں اثنا وادی میں جمعرات کو صبح سے ہی دھوپ چھائی رہی جس سے لوگوں کو پارکوں، دکان تھڑوں، صحنوں وغیرہ میں لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا اور دیہی علاقوں میں کسانوں کو بھی اپنے اپنے میوہ باغوں اور کھیت کھلیانوں میں مختلف کاموں کے ساتھ مصروف پایا گیا۔