کشمیر میں زندگی کا ہر شعبہ غیر یقینیت کی نذر

سرینگر//گذشتہ4سال کے دوران ریاست جموں وکشمیر کو ہر لحاظ سے اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پی ڈی پی اور بھاجپا کی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد حالات کی ابدتری، بے چینی، افراتفری، ماردھارڈ، فرقہ پرستی، خوف و دہشت، کورپشن، بے روزگاری اور اقتصادی بدحالی کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ یہاں کے عوام نے ان ایام میں جو مصائب، مظالم اور مشکلات جھیلے اُن کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کیساتھ تبالہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے خراب حالات سے سیاحت، کاروبار، تجارت، تعلیم، روزگار ، عام زندگی نیز ہر شعبہ غیر یقینیت کی نذر ہوگیا ہے۔ ریاست خصوصاً وادی کے عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں اور چہار سو دہشت کا ماحول ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست میں امن و امان لوٹانے کیلئے بے انتہا کام کیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں نے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا اور ہم ایک بار پھر وہیں پر کھڑے ہیں جہاں اندھیروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل اور ہند و پاک کی مضبوط دوستی کو ریاست اور خطے میں امن و امان کی ضمانت قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ پاکستان کیساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تمام متعلقین کیساتھ بات چیت شروع کریں تاکہ ریاست کے عوام کو دیر پا امن اور چین کی زندگی نصیب ہو۔انہوں نے کہا کہ ہند و پاک میں روابط کے فقدان سے نہ صرف وادی کے حالات دگرگوں ہیں بلکہ سرحدیں بھی جل رہی ہیں۔ اگر ہندوستان اور پاکستان میں مذاکراتی عمل جاری رہتا تو موجودہ خراب صورتحال نہیں ہوتی اور آر پار کشمیری عتاب کے شکار نہ ہوتے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے اٹانومی کی بحالی کے ایجنڈا اور پالیسی پر قائم ہے اور یہی ایک ایسا حل ہے جو سب کیلئے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہندوستان واقعی جموں وکشمیر اور خطے میں دیرپا امن اور شانتی کی متمنی ہے تو نئی دلی کو دفعہ370کی مکمل بحالی، 1953سے پہلے کی پوزیشن اور دہلی اگریمنٹ کو بحال کرنا ہوگا اور ساتھ ہی جموں و کشمیر کی 9ویں اسمبلی کی طرف سے 1999میں منظور شدہ قرار اٹانومی کو قبول کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہمارا یہی موقف ہے کہ اگر اٹانومی سے بہتر کوئی ایسا حل ہے جو یہاں کے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمان کرتا ہے تو ہم اس قبول کرتے ہیں۔