کشمیر میں تعینات مرکزی ملازمین کیلئے خصوصی پیکیج

نئی دہلی//وادی کشمیر میں غیر ریاستی ملازمین کی خدمات کو یقینی بنانے کیلئے وزیرا عظم دفتر میں قائم پرسنل منسٹری نے ایسے ملازمین کو دی جانے والی مراعات میں 2020تک توسیع کی ہے۔نئے ضابطے کے تحت ملنے والی مراعات کے تحت غیر ریاستی ملازمین کو آج کے بعد رہائشی و ٹرانسپورٹ سہولیات، بھر پور سیکورٹی اور مختلف معاملات میں مراعات فراہم کرنا شامل ہے۔ وزیر اعظم دفتر کی طرف سے بدھ کو جاری تازہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں مرکزی محکمہ جات میں جو بھی غیر ریاستی ملازم اپنی ذمہ داری انجام دے گا اُسے مختلف مراعات کے علاوہ رہائشی و ٹرانسپورٹ سہولیات اور مال و جان کا بھر پور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔وزیر اعظم دفتر میں قائم پرسنل منسٹری نے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ اس قسم کی مراعات کو سال 2020تک توسیع کی جاتی ہے۔ملازمین کو دی گئی مراعات میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی غیر ریاستی ملازم کشمیر میں ڈیوٹی دینے کے لئے تیار ہوگا اُسے یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے اہل و عیال سمیت پسندیدہ مقام پر سرکاری خرچہ پر قیام کرسکتا ہے۔نئے آرڈر کے تحت ایسے تمام ملازمین کو یومیہ 113روپے بطور ٹرانسپورٹ خرچہ دیا جائے گا جبکہ ایسے ملازمین کو پہلے سے ہی 97.85روپے روزانہ کھانے پینے کے لئے فراہم کئے جارہے ہیں۔آرڈر میں مزید بتایا گیا ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے پنشنرس جن کا ماہانہ پنشن پبلک سیکٹر بنکوں سے واگذار ہورہا ہے، بھی اب بیرون ریاست اپنا پنشن وصول کرسکتے ہیں۔ پرسنل منسٹری کی طرف سے جاری آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی سرکار کی جانب سے تمام وزراء، محکمہ جات اور پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس جو کہ مرکزی سرکار کے تحت کام کررہے ہیں،کو دی جانے والی مراعات میں کوئی تفریق نہیں ہوگی اور ایسے محکمہ جات کو اس بات کا سختی سے پابند بنایا گیا ہے کہ وہ پیکیج میں دی گئی قیمتوں کے پر مکمل طور پر کاربند رہیں۔آرڈر کے مطابق کشمیر خطے میں ڈیوٹی دینے والے غیر ریاستی ملازمین سے متعلق نئے پیکیج کو بااختیار کمیٹی نے منظور کرتے ہوئے اس کا اطلاق یکم جنوری 2018سے سال 2020کے آخرتک عمل میں لایا ہے۔