کشمیر میں اسرائیلی حکومت کا اثر ونفوذ پریشان کن:ڈاکٹر قاسم

 سرینگر//مسلم دینی محاذ کے محبوس امیر ڈاکٹر محمد قاسم نے کہاہے کہ اسرائیلی حکومت کا کشمیر میں بڑھ رہا اثر ورسوخ ملت اسلامیہ کشمیر کے لئے انتہائی پریشان کن ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک عرب اور جنوبی ایشامیں سامراجی سیاسی عزائم ، جو اْن کے مذاہب پر مبنی ہیں، کی تکمیل چاہئے ہیں۔ڈاکٹر قاسم کے مطابق1947ء کے بعد بھارت کی کانگریس نے جو فلسطین کاز کی حمائت کی سرکاری پالیسی اختیار کی تھی وہ صرف اسکی ووٹ بنک سیاست تھی، حقیقت یہ ہے فوجی تربیت اور جدید اسلحہ کے حوالے سے دونوں ممالک کے تعلقات 1947ء کے فورًا بعد شروع ہوچکے تھے۔کشمیر میں1990ء سے ہی اسرائیل کی حکومت نے فوج اور پولیس کی تربیت ، سراغرساں امور میں معاونت اور عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کرنے میں بھارت کی افواج، سراغرساں اداروں کے ساتھ تعاون کیا ہے، اس لئے اب باضابطہ اسرائیل کی حکومت نے اپنی اس موجودگی کو معاشرتی آڑ میں مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔طلبہ اور طلبات کی تعلیم، اسکا لرشپ ، تاجروں کے لئے تجارت کے مواقع فراہم کرنا ان ہی تحریک دشمن اور مسلمان دشمن منصوبوں کا حصہ ہے۔ ملت اسلامیہ کشمیر یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ بھارتی حکمران اسی طرح کشمیر میں مسلمانوں کو بے بس اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جسطرح اسرائیل کی یہودی حکمرانوں نے فلسطین کے مسلمانوں کو بنایا ہے۔ اس لئے بھارتی حکمران کشمیر میں مکمل طور اسرائیل کی حکومت کی رہنمائی میں کام کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس لئے اب بھارت بھی چاہتاہے کہ کشمیر میں اسرائیل کی موجودگی کو تعلیم، طب، کلچر اور تجارت کی شکل میں مضبوط اور موثر بنایا جائے۔ کشمیر کی دینی رہنماوں، تاجر برادری اور حریت پسند قیادت کو اس بارے میں لوگوں کو باخبر کرنا چاہئے اور خود بھی ان منصوبوں کا حصہ بننے سے بچنا چاہئے۔