کشمیری زبان کی اپنی ایک تاریخ

سرینگر// لل دید کلچرل فورم جمو ں و کشمیر کی سربراہ نادم شوقیہ کے مطابق کشمیری زبان کی اپنی ایک تاریخ ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اننت ناگ ضلع کے کرنڈی گام بجبہاڑہ علاقہ سے تعلق رکھنے والی شوقیہ عرف نادم شوقیہ ایک ابھرتی کشمیری خاتون شاعرہ ہیں جو لل دید کلچرل فورم جمو ں و کشمیر کی سر براہ بھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لل دید کلچرل فورم جمو ں و کشمیر کی خواتین شعراء اور ادب سے تعلق رکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کوشش یہ ہے کہ کشمیر زبان کو فرو غ دیا جائے ۔شوقیہ نے کہا’’ سال2014کو میں نے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا ‘‘ ۔انہو ں نے کہا ’’ اس زبان کو زوال پذیر کرنے میں سماجی سطح پر ہر ایک ذمہ دار ہے کیونکہ ہم اپنی مادری زبان کو بولنے میں عار محسوس کرتے ہیں اور اسی لئے میں نے کشمیری زبان میں شاعری کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اس زبان کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے‘‘ ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 7سالوں کے دوران وہ اپنے شعری مجموعہ کو اکھٹا کر کے ایک کتابی شکل دینے کی تیاری میں ہے اور عنقریب یہ کتاب’’أدر ورق‘‘منظر عام پر آئے گی۔