کشمیری حریت پسندوں کیخلاف بھارت کا رویہ

سرینگر//میرواعظ عمر فاروق نے دہلی پر کشمیر کو انتخابی سیاست کیلئے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے این آئی ائے کے چھاپوں کو بے جا قرار دیا۔ پولیس نے میڈیا نمائندوں کو بدھ کے روز حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی پریس کانفرنس میں شمولیت کرنے کی اجازت نہیں دی۔ قومی تفتیشی ایجنسی’’این آئی ائے‘‘ کی طرف سے منگل کو حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بدھ کو اپنی رہائش گاہ واقع نگین میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا،تاہم جب بیسوں نامہ نگار اور فوٹو جرنلسٹ میرواعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ پر پہنچے تو پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ذرائع ابلاغ سے وابستہ نامہ نگار اور فوٹو جرنسلٹ اگر چہ کافی دیر وہاں موجود رہے تاہم پولیس نے انہیں واپس جانے کی صلاح دی،جس کے نتیجے میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے سنیئر لیڈر میرواعظ عمر فاروق نے پریس کانفرنس نہیں دے پائے۔ میرواعظ نے حکمرانوں کے اس اقدام کو’’ آمریت کا بدتر ین مظاہرہ اورجمہوریت کی بیخ کنی‘‘ قرار دیتے ہوئے  مذمت کی۔ بھارت اور پاکستان کو تنائو اور کشیدگی کے ماحول کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے میرواعظ کہا ’’نئی دہلی ،کشمیر کو انتخابی مفادات کیلئے ایک نا اہل و طفل بچے‘‘ کی طرح تصور کرتا ہے۔۔انہوں نے کہا ’’ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے لہٰذا حکومت ہند خطے میں جنگی جنون کو ہوا دینے کے بجائے اس مسئلہ کو پر امن اور جامع مذاکرات کے ذریعہ حل کرے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں تاخیری حربے ہرگزرتے دن کے ساتھ اس پورے خطے کو مزید سیاسی عدم استحکام کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔‘‘ میرواعظ نے کہا کہ ایک مذموم مہم کے تحت کشمیر یوں کی حق و انصاف پر مبنی رواں جدوجہد کو کمزور اور یہاں منافرت کی فضا کو بڑھاوا دیا جارہا ہے خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کشمیریوں پر ہورہے انسانیت سوز مظالم اور جبر و قہر کے ذریعے ہمارے حق و انصاف پر مبنی حق خود ارارادیت کی تحریک کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے مزاحمتی لیڈروں محمد یاسین ملک ،شبیر احمد شاہ ، محمداشرف صحرائی، نسیم گیلانی اور دیگر لوگوںکے گھروں پر چھاپہ مار کارراوئیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا  ’’ میری رہائش گاہ میں علی الصبح8 بجے سے شام 6 بجے تک تقریبا دو درجن این آئی اے سے وابستہ افسران اور اہلکار داخل ہوکر گھر اور ملحقہ دفتر کا کونا کونا چھان مارا اور گھر میں موجود تمام اشیاء کی باریک بینی سے تلاشی لی۔‘‘ ۔ انہوں نے کہا’’ میرا ذاتی موبائل فون، لیپ ٹاپ، میرے ذاتی دفتر کے ریکارڈ جس میںہارڈ ڈرائیو,، انجمن اوقاف جامع مسجد کیضروری فائلیں، حریت کانفرنس کے پریس بیانات، پاکستان میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کی فہرست وغیرہ ضبط کئے گئے جن کی ان کی جانب سے کوئی رسید بھی فرا ہم نہیںکی گئی ۔‘‘ میر واعظ نے کہا کہ جب ان سے اس ضمن میں رسید مانگی گئی تو کہا گیا کہ یہ آپ عدالت سے حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ضبط کردہ اشیاء کے تعلق سے این آئی اے کی جانب سے رسید نہ دینا کئی خدشات کو جنم دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ اشیاء اور کاغذات کی ضبطی کو این آئی اے کی جانب سے اپنے پریس ریلیز میں ـ’’قابل اعتراض مواد ‘‘سے تعبیر کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ محض ایک مقامی پرائیوٹ انٹرنیٹ(لیز لائنز) کو ــ’’ہارٹ لائن‘‘سے تعبیرکرکے ایک غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی جبکہ اس طرح کی سہولت یہاں میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی حاصل ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ حکومت ہند اور متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے روا رکھے گئے طرز عمل کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کے نو ٹس میں لایا جائیگا۔انہوں میرواعظ نے کہا یہ بات ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ بھارت میں عام انتخابات کے پیش نظر حکومت ہند جو حکمت عملی اپنا رہی ہے ان میںسے دو محاذوں بابری مسجد کی جگہ را م مندربنانے اور سہ طلاق بل پاس کروانے میں ناکامی کے بعد جموںوکشمیر میں آرٹیکل 370 اور دفعہ35A کی آڑ میں کشمیر یوں پر تلوار معلق رکھی گئی ہے تاکہ ان کایہ عمل ووٹ بٹورنے میں مدد گار ثابت ہو۔ انہوں نے کہا حکومت کویہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیریوں کی پشتینی انفرادیت اورشناخت اور انفرادیت کو اگر زک پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کیخلاف عوام بھر پور مزاحمت کریگی۔