کشتواڑ میں سوچھ بھارت ابھیان ٹائیں ٹائیں فش!

کشتواڑ//اگر چہ ریاستی سرکارشہروں اور قصبوں کو صاف و شفاف بنانے کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن قصبہ کشتواڑ کے زمینی حقایق ان دعوئوں کی نفی کرتے ہیں، قصبہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ گندگی کے ڈھیروں  میں اضافہ ہوتا جا رہاہے ،اور یوں لگتا ہے کہ انتظامیہ کوئی خاص توجہ نہیں دے رہی ہے۔کشتواڑ کا مین بس اسٹینڈجہاں سے نہ صرف مقامی بلکہ بین ضلعی گاڑیاں بھی چلتی ہیں، ہر وقت درجنوں گاڑیاں کھڑا رہتی ہیں اور ہزاروں مسافروں کا روزآنہ گزر ہوتا ہے ، میونسپل کمیٹی اور دیگر لوگوں کے لئے کچرے کا ایک ڈھیر بن کر رہ گیا ہے ۔ میونسپل کمیٹی پورے قصبہ سے کوڑا کرکٹ جمع کرکے یہاں پر ڈال دیتی ہے جس کی وجہ سے یہاں ہر وقت مویشی و کتے موجود ہوتے ہیں نتیجہ کے طور پر عوام خاص کر اسکولی بچوں کو ہر وقت خطرہ  لاحق رہتا ہے۔مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دفعہ متعلقہ حکام سے بات بھی کئی لیکن ان کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے، انہوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے وہ جلد اس مسلہ کو حل کرے تاکہ لوگوں کومزید مشکلات سے دوچار  نہ ہونا پڑے۔مقامی شخص  اشتیاق احمد نے بتایا کہ موسم گرما شروع ہوتے ہی بدبو دار ہوا چلنا شروع ہوتی ہے جس کی وجہ سے بس اڈہ پر کھڑا رہنا مشکل ہوتا ہے اگر اس کا جلد از جلد کوئی معقول انتظام نہ کیا گیا تو کئی مہلوک بیماریاں جنم لیں گی جو عوام کے لیے وبال جان بن جائیں گی۔ اس سلسلے میں جب چیئرمین میونسپل کمیٹی ریاض احمد زرگر سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہمحکمہ کے پاس ملازمین ،گاڑیوں و کوڑادانوں کی کمی ہے جبکہ سب سے بڑا مسٔلہ فنڈزکا ہے جس کی وجہ سے مشکلات آرہی ہیں۔