کرنا ٹک کے بعد دلی میں خاتون کی موت

 کل متاثرین کی تعداد 81 ،واگہہ سرحد بند کردی گئی، کرتار پور راہداری کا فیصلہ آج ہوگا

 
 
نئی دہلی // بھارت کی راجدھانی نئی دہلی میں کرونا وائرس سے ایک خاتون کی موت واقع ہوئی ہے، اس طرح ملک میں ابتک 2افراد لقمہ اجہل بن چکے ہیں۔جمعرات کوکرناٹک میں ایک 76سالہ شخص کی موت واقع ہوئی تھی، جو 29فروری کو سعودی عرب سے واپس آیا تھا۔اس دوران تھانے مہاراشٹرا میں ایک اور کیس کی تصدیق ہوئی ہے جسکے ساتھ ہی بھارت میں کرونا وائرس کیسوں کی تعداد81تک پہنچ گئی ہے۔دنیاکے دیگر ممالک میں اٹلی اور سپین میں چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ 69سالہ جنک پوری کی خاتون کو اور بھی کئی مرض لاحق تھے لیکن دلی میں جو کروناوائرس سے متاثر افراد تھے ان میں مذکورہ خاتون بھی شامل تھی۔وزارت صحت نے کہا ہے کہ پورے ملک میں 6700نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے ۔اس دوران وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کرتار پور راہداری پرآج فیصلہ کیا جائیگا ۔سرحدی حفاظتی فورس ( بی ایس ایف) نے کہا ہے کہ سنیچر سے پاکستان کی جانب سے آنے والے کسی بھی غیر ملکی شہری کو واگہہ سرحد سے بھارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔بھارت نے بنگلہ دیش کیساتھ بس اور ریل سروس آج سے معطل کرنیکا فیصلہ کیا ہے جبکہ یورپی ممالک کیساتھ 15مارچ سے فضائی سروس بھی معطل کی جارہی ہے۔ ادھر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پیر سے صرف وکلاء کو سپریم کورٹ احاطے میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے ایک سرکیولر نکالا گیا جس میں بتایا گیا کہ پیر سے سپریم کورٹ کے کام کو محدود کیا جائیگا۔سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ صرف اہم نوعیت کے معاملات کی شنوائی ہوگی اور کورٹ کے بینچوں کی تعداد کو بھی محدود کیا جائیگا۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی اسی طرح کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔
مرکزی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران سے مزید 44بھارتی شہری وطن واپس لوٹ آئے ہیں اور اُن کو فی الحال ممبئی میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے ۔انکا کہنا تھا کہ ایران سے 1199بھارتیوں کے نمونے لیکر انہیں جانچ کیلئے بھارت لایا گیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر اس کی جانکاری دیتے ہوئے کہاکہ خصوصی طیارے نے ایران میں پھنسے مزید 44شہریوں کو وطن واپس لایا ہے۔ انہوںنے کہاکہ قواعد و ضوابط کے تحت ان شہریوں کو کے نمونے جانچ کیلئے بھیجے جائیں گے۔ادھر مرکزی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ملک میں42,296مسافروں زیر نگرانی رکھا گیا۔جن میں سے2559 افراد میںکرونا وائرس کی علامات پائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 522 کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے جن میں17غیر ملکی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ، چین،مڈگاسکر اور مالدیپ سے 1031افراد کو لایا گیا جن کیساتھ 4000افراد نے رابطہ کیا تھا یا جن سے یہ لوگ بھارت میں ملے تھے، ان سبھی کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ لداخ میں ابتک 3افراد کے رپورٹ مثبت آئے ہیں، جن میں باپ بیٹا شامل ہیں۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ایران میں 6000بھارتی درماندہ ہیں، جن میں جموں کشمیر اور مہاراشٹرا کے 1100زائرین اور طلاب ہیں، جن میں طلبا کی تعداد 330کے قریب ہے۔بھارت میں ابھی تک کیرالا میں سب سے زیادہ 19کیس سامنے آچکے ہیں ۔ اسکے بعد مہارشٹرا میں 14ہیں۔اترپردیش میں 10، دہلی میں6، ہریانہ میں 14،راجستھان میں3،تلنگانہ میں ایک،لداخ میں 3،تامل ناڈو میں  ایک،پنجاب میں ایک،کرناٹک میں 6،آندھرا پردیش میں ایک شامل ہیں۔کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں 64مقامی لوگ، 17غیر ملکی، شامل ہیں جبکہ 3روبہ صحت ہورہے ہیں اور ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔