کرناٹک میں گرفتار 3کشمیر طلبہ کی ضمانتی عرضی مسترد

بنگلورو//کرناٹک کی ایک عدالت نے غداری کے کیس میں گرفتار تین کشمیری طلبا کی ضمانتی درخواست مسترد کر دی ہے۔خیال رہے کہ سیشن جج کے این گنگا دھر نے 5 مارچ کو معاملے کی سماعت کے بعدفیصلہ10مارچ تک محفوظ کیا تھا۔ تینوں کشمیری طالب علموں کو منگل کے روز ایک مرتبہ پھر عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کی ضمانتی عرضی مسترد کی گئی۔ تینوں طلبا باسط عاشق صوفی ، طالب ماجداور عامر محی الدین  کے وکیل بی ٹی وینکٹیش نے عدالت کے سامنے اپنے موکلوں کو بے قصور بتاتے ہوئے عدالت سے ان کی ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی تھی۔تاہم سرکاری وکیل سمترا انچتاگیری نے ضمانتی درخواست مسترد کرنے کی وکالت کی تھی۔تینوں طلبافی الحال عدالتی حراست میں ہیں اور بیلاگائوں کی ہندالگا جیل میں قیدہیں۔پولیس کے مطابق ان تینوں طلبا نے پلوامہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں وہ مبینہ طور پر 'پاکستان کی حمایت میں اور 'فری کشمیر' کے نعرے لگا رہے تھے'۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تینوں طلبا کو گرفتار کیا ۔
 

آگرہ جیل میں نظر بند نوجوان کا  پی ایس اے کالعدم

سرینگر//عدالت نے منگل کے روز صورہ سرینگر کے ایک نوجوان کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری کالعدم قرار دیتے ہوئے  انہیں فوری طور پر رہا کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ زیر حراست نوجوان کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ بشیر احمد ٹاک کے مطابق پولیس نے دائودکالونی صورہ کے ایک نوجوان غلام حسن پتلو ولد غلام رسول کو زیر ایف آئی آر نمبر 71/2019 کے تحت گرفتار کیا جس کے بعد انہیں پی ایس اے کے تحت آگرہ جیل منتقل کردیا گیا ۔ایڈوکیٹ ٹاک نے عدالت کو بتایا کہ جس نوجوان کو گرفتار کیا گیا وہ پیشہ سے ایک مزدور ہے ۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد گرفتار نوجوان کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔