کانگریس کی عوام کش پالیسیوں سے دیہی علاقوں کی تعمیر وترقی نہ ہو سکی ادھم پور دیہی سڑکوں کی تعمیر میں ملک کے سرفہرست 3 اضلاع میںشامل :ڈاکٹر جتیندر

عظمیٰ نیوز سروس

ادھم پور//مرکزی وزیر اور ادھم پور، ڈوڈہ، کٹھوعہ حلقہ کے بی جے پی امیدوار ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور مرکزی پی ایم جی ایس وائی اسکیم کے تحت دیہی سڑکوں کی تعمیر میں ہندوستان کے سرفہرست تین اضلاع میں شامل ہوا ہے اور یہ صرف ترجیحات کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ماضی میں کانگریس کی قیادت والی حکومتوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ 2004 سے 2014 تک کی یو پی اے حکومت، علاقائی امتیاز کی پالیسی پر عمل پیرا رہی جس کے نتیجے میں بالائی دور دراز علاقوں اور ضلع ادھم پور کی دور دراز کی پنچایتیں سڑک کے ذریعے غیر منسلک رہیںکیونکہ ان کو اس قسم کی توجہ نہیں ملی جس کے مستحق تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں اس دور افتادہ خطہ کے لوگوں کو اپنے مریضوں اور خاندان کے بزرگ افراد کو جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ یا پالکی میں لے جانے کی اذیت اور مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں، صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی کمی اور صحت کے مراکز تک رسائی کی کمی کی وجہ سے بیماری کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی اضافہ ہوا۔ضلع ادھم پور کے بالائی علاقوں بشمول بسنت گڑھ، لاٹی، گورڈی، لینڈر وغیرہ کے انتخابی دورے کے دوران بڑے پیمانے پر عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ادھم پور اپنی مخصوص ٹپوگرافی کی وجہ سے دشوار گزار خطوں پر واقع اس ضلع میں سڑک کی تعمیر کا کام کئی دہائیوں پہلے شروع کیا جانا چاہیے تھا لیکن جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا حالانکہ دیہی سڑک کی تعمیر کے لئے پی ایم جی ایس وائی اسکیم بھی پی ایم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں این ڈی اے نے متعارف کروائی تھی لیکن یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اسی جذبے کے ساتھ آگے نہیں بڑھایا جب تک کہ وزیر اعظم نتندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالا اور ادھم پور کو اولین ترجیح دی گئی۔اس خطہ پر توجہ دینے کے لیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج دور دراز کے علاقوں کے لوگوں کو نہ صرف رابطے کا فائدہ ملا ہے بلکہ اس سے ان کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں اور تجارت میں شامل ہونے کی ان کی امنگیں بیدار ہوئی ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک میں پہلی بار لیوینڈر کی کاشت اسی حلقے کے چھوٹے سے قصبے بھدرواہ سے شروع ہوئی تھی اب ادھم پور ضلع کے ان علاقوں خاص کر لاڈی اور بسنت گڑھ میں بھی شروع کی گئی ہے۔ یہ مقامی نوجوانوں کے لئے منافع بخش معاش کا ایک اہم ذریعہ بننے جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی قیادت میں سابقہ حکومتوں نے نوجوانوں سے ہر ایک کو سرکاری ملازمتیں دینے کے جھوٹے وعدے کئے تھے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ادھم پور کے لئے ’کالاڑی‘ کو ‘ضلع کی ایک مصنوعات کے زمرے میں پہچانے جانے کے بعد ضلع کی بالائی پہاڑیوں میں واقع یہ علاقہ خاص طور پر اس نسخے کے لئے جانا جاتا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں پچھلے دس سالوں میں ادھم پور ایک سے زیادہ وجوہات کی بنا پر قومی نقشے پر ابھرا ہے جس میں جامنی انقلاب بھی شامل ہے اور اگلے پانچ سالوں میں یہ ایک اہم سنگم اور منزل کے طور پر قائم ہونے والا ہے۔