کانگریس کیساتھ ہاتھ ملانے کے لئے تیار، وادی کی تین نشستوں پر اتحاد نہیں ہوگا، جنوبی کشمیر کو پی ڈی پی نے سزا دی،محبوبہ مفتی دودھ ، ٹافیاں، اورفورسز کی بندوقوں سے متعلق الفاظ شاید بھول گئیں

اننت ناگ //نیشنل کانفرنس نائب صدر عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ اگرکانگریس سیٹوں کے بٹوارے پرراضی ہوجائے تونیشنل کانفرنس پارلیمانی الیکشن میں اس کیساتھ اتحادیاگٹھ جوڑکیلئے تیارہے۔عمر کاکہناتھاکہ اُنکی جماعت نیشنل کانفرنس پارلیمانی انتخابات سے قبل اتحادکیلئے تیارہے ،اگرکانگریس والے ہمارے ساتھ جموں وکشمیرمیں پارلیمانی حلقوں کے بٹوارے کیلئے راضی یاآمادہ ہوں ۔انکا کہنا تھا’’کانگریس کی جانب سے اس حوالے سے پیشکش موصول ہوئی ہے، اگر کانگریس کشمیرکے تینوں لوک سبھاحلقوں کوہمارے لئے چھوڑدیں توہم انتخابی گٹھ جوڑیااتحادکیلئے تیارہیں ۔انہوں نے کہا کہ سوموار کو نیشنل کانفرنس وادی کی تین نشستوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کریگی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ گورنر انتظامیہ میں موجود چند اعلیٰ بیورو کریٹوں اور کچھ پارٹیوں نے ریاست میں اسمبلی انتخابات کی مخالفت کی۔انہوں نے شاہ فیصل سے کہا کہ وہ عوام کے سامنے اپنا ایجنڈا واضح کرے۔

جلسہ

 اس سے قبل ڈاک بنگلہ اننت ناگ میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم ایک آواز میں بات کریں، جب ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہونا چاہئے تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک سازش کے تحت ہمیں ٹولیوں میں بانٹا جاتا ہے۔ عمر کا کہنا تھا کہ ’’میں جمہوریت کیخلاف نہیں ، مجھے یہ غلطی فہمی نہیںہے کہ صرف نیشنل کانفرنس کو ہی اقتدار کی کرسی سنبھالنے کا حق ہے، لیکن یہ نئی جماعتیں صرف کشمیر کیوں آرہی ہیں، جموں اور لداخ میں ایسا رجحان کیوں نہیں، وہاں کے لوگوں کو بھی جمہوری حق حاصل ،وہاں جب لڑائی ہوتی ہے تو سیدھے دو یا تین جماعتوں میں ہوتی ہے لیکن وادی میں دس پندرہ جماعتوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جنوبی کشمیر میں کوئی ایک جماعت آئے، وسطی کشمیرمیں دوسری جماعت جیتے اور شمالی کشمیر میں تیسری پارٹی جیت حاصل کرے، تاکہ ہم بکھر جائیں اور ہماری آواز میں کوئی وزن نہ رہے۔ عمرنے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک ہی لگام کو پکڑیں اور اُن تمام سازشوں کو ناکام بنائیں جس کے ذریعے ہمیں بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پی ڈی پی پر تنقید

 پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان لوگوں نے یہاںحالات اس قدر خراب کئے کہ یہاں تین دن ووٹنگ ہوگی۔جنوبی کشمیر کے ووٹروں نے 2002سے لگاتار پی ڈی پی کو بھر پور حمایت دی اور وفا کی، کیا پی ڈی پی نے یہاں کے لوگوں کیساتھ وفا کیا؟جنوبی کشمیر کے حالات دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا‘‘۔ عمر کا کہنا تھا کہ ’’گولی نہیں بولی،امن، مفاہمت، مصلحت، ہیلنگ ٹچ اور دیگر طرح طرح کے تمام نعرے کھوکھلے نکلے، پی ڈی پی کی حکومت جنوبی کشمیر کے عوام کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی، سب سے زیادہ کریک ڈائون جنوبی کشمیر میں دیکھنے کو ملتے ہیں، سب سے زیادہ زیادتیاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ پی ایس اے کا اطلاق اور گرفتاریاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ خون خرابہ جنوبی کشمیر میں ہورہا ہے، سب سے زیادہ بنکر جنوبی کشمیر میں بنائے گئے، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ اور گولیوں کا استعمال جنوبی کشمیر میں ہوا۔ کیا یہی سب دیکھنے کیلئے پی ڈی پی والوں کو عوام نے ووٹ دیئے تھے؟۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’محبوبہ جی آج ہر بات پر ہمدردی، افسوس اور آنسو بہاتی ہے لیکن 2016میں جب نوجوان گولیوں کے شکار بنائے جارہے تھے ، اُس وقت کسی کو یہ آنسو نظر نہیں آئے، جب یہاں اندھا دھند گرفتاریاں اور مظالم جاری تھے تب محبوبہ جی نے کسی کیساتھ ہمدردی نہیں کی، تب تو موصوفہ کہتی تھی کہ جو لڑکے گولیوں کا شکار ہوئے وہ ٹافی اور دودھ لانے نہیں گئے تھے ، اقتدار کے نشے میں دُھت موصوفہ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ فوجی اور فورسز کی بندوقیں صرف دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں،اس کے برعکس تب محبوبہ جی کی آنکھوں سے آنسو نکلے ہوتے تو وہ سب کے دلوں کو چھو جاتے لیکن تب ایسا نہیں ہوا ۔ آج موصوفہ آنسو بہارہی ہیں، یہ آنسو الیکشن کے آنسو ہیں، ان آنسوئوں کی سیاسی قیمت ہوتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے لوگوں نے ان سیاسی آنسوئوں کا بہت خمیازہ بھگتا ہے، خدارا دوبارہ غلطی نہ دہرانا‘‘۔عمر نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج حالات کی خرابی کا رونا رو رہی ہیں، کہتی ہیںکہ گرفتاریاں نہیںہونی چاہئیں، لیکن شائد بھول جاتی ہیں کہ یہ سب کچھ اُن کی اپنی ہی حکومت کی ہی دین ہے۔این آئی اے کارروائیوں پر واویلاکرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو لتاڑتے ہوئے عمر کہا کہ شاہد الاسلام آپ کے دورِ اقتدار میں گرفتار ہوئے، تب آپ نے ہمدردی کیوں نہیں کی تب گرفتاری کی اجازت کیوں دی؟ آج جب میرواعظ مولانا عمر فاروق صاحب کیخلاف این آئی اے والے تحقیقات کررہے ہیں، اُن کو پوچھ تاچھ کیلئے دلی بلایا جارہا ہے، تو محبوبہ جی پھر ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیںکہ یہ کون سا کیس ہے تو پتہ چلتا ہے کہ 2017کا کیس ہے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں، تب محبوبہ جی نے ان کیخلاف کیس دائر کرنے کی اجازت کیوں دی ؟ تب اپنا اثر و رسوخ کیوں نہیں استعمال کیا؟‘‘۔ پی ڈی پی کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کیخلاف واویلا کو محض فریب کاری قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی، اُس کی شروعات کہاں سے ہوئی، جب آپ (پی ڈی پی )نے یہاں بی جے پی لاکر حکومت بنائی، ہم نے تو روکنے کی کوشش کی تھی۔ حکومت چھن جانے کے بعد بھی پی ڈی پی نے راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین کے انتخاب میں غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جماعت پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟کیا جنوبی کشمیر کا ووٹر دوبارہ نریندر مودی کو مدد کرنے کیلئے تیار ہے، کیا جنوبی کشمیر کے لوگ پھر سے سنگ پریوارکے ہاتھ مضبوط کرنے آگے آئیں گے؟۔
 
 
 

عمروزارت  اعلیٰ کے امیدوار ہونگے:ڈاکٹر فاروق

یوگیش سگوترہ 

 
جموں // نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ ان کے فرزند اور پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے اور وہ خود لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیں گے ۔جموں کے باہو فورٹ علاقے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر میں یہاں کسی چیز کا وعدہ کرتاہوں تو لوگ کہیں گے کہ فاروق عبداللہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے لیکن میں ایک بات واضح کردیتا ہوں کہ میں آپ کا وزیر اعلیٰ امیدوار نہیںہونگا‘‘۔اس موقعہ پر پارٹی کے صوبائی صدر دیوندر سنگھ رانا ، پارٹی کی طرف سے لوک سبھا کی جموں پونچھ سیٹ کیلئے امیدواربی آر کنڈل ، سینئر لیڈر ٹی ایس وزیر و دیگران بھی موجو دتھے ۔ڈاکٹرفاروق کاکہناتھا’’میں جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں نہیں ہوں ، میں اس کیلئے بہت بوڑھا ہوں اور اسمبلی انتخابات کے بعد عمر وزیر اعلیٰ ہوں گے ‘‘۔آج ہی اپنی نئی سیاسی جماعت متعارف کروانے والے ڈاکٹر شاہ فیصل کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا’’وہ (عمر)نوجوان اور تجربہ کارہے ، میں بوڑھا ہوتاجارہاہوں اوردیگر نوجوانوں کی طرح سیاست میں نہیں دوڑ سکتا لیکن عمر ان کا مقابلہ کرنے کا اہل ہے ‘‘۔