بانہال // کانگریس کمیٹی بانہال نے گذشتہ دنوں بانہال میں نیشنل کانفرنس کی طرف سے کٹھوعہ واقعہ کی مذمت کیلئے نکالی گئی احتجاجی ریلی کو سیاسی شبیدہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس لیڈر اور ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول نے سب سے پہلے اس واقعہ پر اسمبلی میں آواز اٹھا کر کٹھوعہ کیس کو منتطقی انجام تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے اور نیشنل کانفرنس کے لیڈران تین مہینے تک چپ رہنے کے بعد اب اس معصوم بچی کے معاملہ پر گندی سیاست کرکے سیاسی فائیدہ اٹھانے کی غلط سوچ رکھ کربے بنیاد بیان دے رہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار سنیئر کانگریس لیڈر اور سیکریٹری پردیش کانگریس بانہال امتیاز احمد کھانڈے نے پیر کے روز بانہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ کیس کو کرائم برانچ کے سپرد کرنے میں کانگریس لیڈر اور ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول اور کانگریس کا اہم رول رہا ہے اور قومی سطح پر بھی اس واقعہ کے خلاف راہل گاندھی وہ پہلے قومی لیڈر تھے جنہوں نے انڈیا گیٹ پر کینڈل مارچ نکال کر اس افسوسناک واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا جبکہ کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر وہ پہلے ریاستی لیڈر تھے جنہوں نے متاثرہ لڑکی کے گھر والوں سے رسانہ ، کٹھوعہ میں تعزیت کرکے انہیں ہرممکن تعاون کا یقین دلا کر کہا تھا کہ کانگریس پارٹی اس مسئلے پر چپ نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیس بک اور واٹس اپ کی سیاست نہیں کرتے ہیں بلکہ زمینی سطح پر جڑی ہوئی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے مقامی لیڈر سجاد شاہین کی طرف سے گذشتہ ہفتہ بانہال میں نکالی گئی ریلی معصوم بچی کو انصاف فراہم کرنے کیلئے نہیں بلکہ کانگریس لیڈروں کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت پروپگنڈہ کرنے کیلئے منعقد کی گئی تھی، تاکہ حلقہ انتخاب بانہال میں سیدھے سادھے ووٹروں کو گمراہ کیا جا سکے ، جو افسوس کا مقام ہے ۔ امتیاز احمد کھانڈے نے کہا کہ ہندو ایکتا منچ کی ریلی میں شامل اور مجرموں کا ساتھ دینے میں ملوث دو بھاجپا لیڈروں کے علاوہ ، نیشنل کانفرنس کے کارکنوں نے بانہال میں کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کا بھی پتلا جلا کر اپنی اوچھی سیاست کا برملا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال ریلی میں مخلوط سرکار ، بار ایسوسی ایشن جموں اور ہندو ایکتا منچ کو نشانہ بنانے کے بجائے نیشنل کانفرنس لیڈر نے صرف کانگریس کو نشانہ بنانے کی سیاست کرکے اپنی بوکھلاہٹ ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس لیڈر سجاد شاہین نے ماضی میں بھی دفعہ 370 ، دفعہ 35-A اور یوم شہدا کے موقعہ پر اِن واقعوں کی مناسبت سے تقریر کرنے کے بجائے کانگریس کو نشانہ بنانا اپنا شعار بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس جماعت حلقہ انتخاب بانہال میں پہلے سے مضبوط جماعت بن کر آگے بڑھ رہی ہے اور نیشنل کانفرنس کٹھوعہ کیس کو سیاسی مدعا بنا کر حلقہ انتخاب بانہال سے جیتنے کے سپنے دیکھ رہی ہے جبکہ زمینی سطح پر نیشنل کانفرنس کیلئے زمین سکڑ کر رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کا نفرنس لیڈر سجاد شاہین کو اس معاملے پر سیاست کر نے کے بجائے نیشنل کانفرنس کے اْن لیڈروں سے بات کرنی چاہئے جو اس معاملے کو لیکر اسمبلی میں اس وقت چپ بیٹھے رہے جب وقار رسول اور کانگریس لیڈر اس معاملے پر احتجاج کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ نیشنل کانفرنس کے ایک سنئیر لیڈر نے اسمبلی میں میڈیا کے سامنے کہا تھا کہ وقار رسول کہہ رہے ہیں کہ کٹھوعہ میں بچی کے ساتھ ریپ بھی ہوا ہے اور اپ اس طرف توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی اسمبلی میں وقار رسول نے ہی کٹھوعہ واقع میں ملوث مجرموں میں سے ایک ملوث مجرم کا نام بھی لیا تھا جسے بعد میں ملوث پانے کے بعد کرائم برانچ نے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قیادت اس معصوم بچی کے قتل اور عصمت دری میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ تب تک جاری رکھے گی جب تک نہ رسانہ ، کٹھوعہ کی معصوم بچی کو انصاف نہیں ملتا۔ اس موقعہ پر بلاک صدر محمد شریف گنائی ،سنئیر کانگریس لیڈر چودھری لعل دین ، غلام نبی شان ، الیاس بانہالی ،محمد رمضان بہورو ،شکیل احمد ڈار ، بشیر احمد میر ، محمد شریف خان وغیرہ بھی موجود تھے۔