کانگریس کا جموں میں بجلی بحران کیخلاف شدید احتجاج

نیوز ڈیسک
جموں//کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں نے جموں میں بجلی بحران کو سنبھالنے میں ناکام ہو کر افراتفری پیدا کرنے کے لئے بی جے پی کے زیر کنٹرول انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم کی عوامی ریلی کے لئے سانبہ میں پلی پنچایت میں فنڈز کا استعمال کیا۔اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے اس احتجاج کی قیادت کانگریس پارٹی کے سابق یوتھ کانگریس صدر اور اے آئی سی سی کے ممبران پرناو شگوترا نے کی۔مظاہرین نمائشی میدان میں جمع ہوئے اور ڈوگرہ چوک کی طرف احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روک دیا جس کے بعد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔مظاہرین سے پہلے خطاب کرتے ہوئے شگوترا نے افسوس کا اظہار کیا کہ بی جے پی کے زیر کنٹرول انتظامیہ نے اس خطے کو مکمل افراتفری اور انتشار میں دھکیل دیا ہے۔شگوترا نے جموں میں پارٹی کارکنوں کے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’نظام مکمل طور پر گرا ہوا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ عوام بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن معاملات کی سرکوبی کرنے والے ابھی تک گہری نیند میں ہیں‘‘۔شدید گرمی کے دوران لوگوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے غیر انسانی رویہ اپنانے کے لیے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شگوترا نے کہا کہ گرمیوں کے دوران بجلی خریدنے میں جموں و کشمیر حکومت کی بے بسی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ حکومت کو لوگوں کی کم سے کم فکر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے سرکاری خزانے کی قیمت پر سستی تشہیر میں مصروف ہے۔حال ہی میں منعقد ہونے والی بہت مشہور ‘پلی ریلی’ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شگوترا نے کہا کہ سرکاری فنڈز، جن کاسیاسی پروگرام کے لیے غلط استعمال کیا گیا، جموں کے باشندوں کو ایک بڑی راحت دینے کے لیے تین ماہ کی بجلی خریدنے کے لیے کافی ہے۔  انہوںنے کہا’’ایک موٹے اندازے کے مطابق بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے سیاسی تقریب کے لیے سرکاری خزانے سے 100 کروڑ روپے کا استعمال کیا گیا”۔ انہوں نے مزید کہا “اگر یہ رقم قوت خرید پر خرچ کی گئی ہوتی تو صورتحال جموں خطے میں بہتر ہوتی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’نقدی کی قلت کا شکار جموں و کشمیر کے خزانے کے لیے، عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اس پروگرام پر سیکڑوں کروڑ روپے ڈھٹائی سے خرچ کیے گئے لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘‘