کانگریس منشور پاکستانی زبان،افسپا میں نظر ثانی ناقابل قبول

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کے منشور کو’ پاکستان کے حمایت یافتہ طاقتوں‘ کی زبان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افسپا قانون میں کوئی نظر ثانی کی گئی تو اس سے سیکورٹی فورسز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کیساتھ اتحاد ناگزیر تھا لیکن محبوبہ کیساتھ اختلافات پیدا ہوئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی بر آمد بند کرے تو تعلقات میں بہت بہتری آسکتی ہے۔

افسپا و کانگریس منشور

 جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے خصوصی اختیارت قانون (افسپا ) کی نظر ثانی پر مودی نے کہا‘‘آپ افسپا قانون ہٹانا چاہتے ہیں، آپ کو کبھی باقاعدہ طور پر جائزہ لینا چاہئے تھا ، صورتحال دیکھنی چاہئے ، لیکن آنکھیں بند رکھنے سے کام نہیں چلے گا ، ہاں دنیا میں کوئی یہ نہیں چاہے گا کہ ملک جیل خانہ بنے ۔ مودی نے علیحدگی پسند وں کی زبان کو پاکستان حمایت یافتہ زبان قرار دیتے ہوئے کہا ’’ پہلے وہ حالا ت تو بہتر بنائیں ، اس صورتحال پر آج پاکستان جس طرح سے واقعات انجام دے رہا ہے ، جو علیحدگی پسند لوگ زبان استعمال کرتے ہیں ، علیحدگی پسند لوگ جو ہماری فوج کے لئے زبان استعمال کرتے ہیں ، جو پاکستان حمایت یافتہ زبان ہے ،اس زبان کی منشور میں بو آتی ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ’’قانون کے ساتھ کھلواڑ یا قانون میں تبدیلی کرنے کی کانگریس کی کوشش قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا منشور اصل میں پاکستان اسپانسر طاقتوں کی ’زبان‘بولتا ہے جو باعث تشویش ہے ۔ 

پی ڈی پی کیساتھ اتحاد

مودی نے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کے فیصلے کو مناسب قرار دیتے ہوئے کہا’’یہ سچ ہے کہ یہ دو مخالف پارٹیوں کا ایک ساتھ آنے کا معاملہ تھا لیکن یہ ضروری تھا کیونکہ ریاست میں حکومت بنانے کا کوئی اور راستہ نہیں تھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد مفتی محمد سعید کے دور میں کیا تھا جو ایک ’پخت‘ لیڈر تھے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد اس وقت ناکام ہوا جب بی جے پی نے سخت رخ اختیارکیا کہ ریاست میں مقامی بلدیاتی انتخابات ہونے چاہیے ، جسکی محبوبہ مفتی نے مخالفت کی تھی۔

پاکستان

یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں حقیقت میں معاملات کون سنبھالتا ہے ، ایک منتخب حکومت یا کوئی اور۔ انہوں نے ایک نیوز چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران عمران خان اور نواز شریف سے متعلق کہا کہ اس کا فیصلہ پاکستان کے لوگوں کو کرنے دیں، میرا کام ہندوستان کے مفادات پر توجہ مرکوز کرنا ہے ،پاکستان کی انتظامیہ کو چلانے میں میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ’’وہ (عمران خان) کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں کرتے ، ان سب باتوں کو پاکستان کے لوگوں پر چھوڑ دیں‘‘۔ مودی نے کہا’’میں نے دنیا کے کئی لیڈروں سے بات کی ہے اور انہوں نے کیا کہا اور مجھے کیا محسوس ہوا، دنیا کے لئے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ پاکستان کے معاملات کو کون سنبھالتا ہے ، پاکستان کی منتخب حکومت یا فوج یا آئی ایس آئی یا پھر پاکستان سے بھاگ کر مغربی ممالک میں آباد ہونے والے کچھ لوگ‘‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پاکستان کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ، انہوں نے کہاکہ ’’یہ بہت آسان ہے اور بہت سہل ہے ، پاکستان کو سب سے پہلے دہشت گردی کی برآمد بند کر دینی چاہئے‘‘ ۔

بالا کوٹ

 وزیر اعظم نے 26 فروری کی ہندوستانی فضائیہ کی کارروائی کے سلسلے میں ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مانگے ثبوت سے متعلق کہا ’’سب سے بڑا ثبوت پاکستان کی جانب سے ہی آیا، ہم نے اپنا کام کیا اور خاموش رہے لیکن پاکستان نے ہی سب سے پہلے سامنے آکر کہا کہ ایسا ہوا ہے ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ’’وہ لوگ جو مسلسل اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کارروائی میں کتنے (دہشت گرد) مرے یا نہیں مرے ، انہیں ایسا کرنے دیں، اگر ہم نے وہاں شہریوں پر حملہ کیا ہوتا تو پاکستان نے شور مچایا ہوتا اوروہ ہندوستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا، یہ ہماری حکمت عملی تھی کہ شہریوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچے ، فضائیہ نے اپنا کام کیا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لئے ہندوستان کی اس کارروائی کوہضم کرنا مشکل ہو رہا تھا کیونکہ ایسا کرنے پر اسے یہ بھی تسلیم کرنا ہوتا کہ ان مقامات پر ‘دہشت گردی سے متعلق’ سرگرمیاں جاری تھیں۔ انہوں نے کہاکہ ‘‘ ہندوستان میں کچھ لوگ ایسی زبان میں بات کر رہے ہیں جو پاکستان کو خوش کر سکتی ہے ، یہ واقعی تشویش کی بات ہے ‘‘۔