ڈیڑھ لاکھ آبادی پر قائم سب ضلع ہسپتال گندوہ میں ناقص طبی نظام سے عوام پریشان | ماہر امراض خواتین سمیت ڈاکٹروں کی 12 اسامیاں خالی، الٹراساؤنڈ و دیگر سہولیات کا بھی فقدان

ڈوڈہ //ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی کمی کے باعث ڈیڑھ لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی کو ناقص طبی سہولیات کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سب ضلع ہسپتال گندوہ میں خاتون ڈاکٹر سمیت 12 ڈاکٹروں و ایک درجن کے قریب نیم طبی عملہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ الٹرا ساؤنڈ و دیگر سہولیات کی بھی کمی پائی جاتی ہے۔ایس ڈی ایچ میں بی ایم او سمیت صرف 3 ڈاکٹر موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق خطہ چناب کے پسماندہ خطوں میں شمار کئے جانے والے علاقہ بھلیسہ میں قائم سب ضلع ہسپتال گندوہ میں ماہر امراض اطفال، ماہر امراض نسواں ،آرتھوپیڈکس، بے ہوشی، فیزیشن،سرجن، 4 میڈیکل آفیسرز، 2 ایم بی بی ایس ڈاکٹر، 4 جونیئر سٹاف نرس، ہیڈ فارمسسٹ سمیت درجنوں اسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ ہسپتال میں الٹرا ساؤنڈ مشین موجود ہے لیکن اس کو قابل استعمال بنانے کے لئے سرجن دستیاب نہیں ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو اپنا معمولی علاج کے لئے بھی ڈوڈہ، کشتواڑ و جموں کا رخ اختیار کرنا پڑتا ہے اور بیشتر مریض مفلسی کے باعث اپنی طبی جانچ وقت پر نہیں کرواسکتے اور زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔سیول سوسائٹی نے سب ضلع ہسپتال گندوہ میں ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی کمی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ناقص طبی نظام کے باعث غریب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سماجی کارکن محمد رفیع چوہدری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وسیع آبادی پر قائم سی ایچ سی گندوہ میں ماہر امراض نسواں کی آسامی برسوں سے خالی پڑی ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور باالخصوص زچگی کے دوران انہیں ڈوڈہ و جموں منتقل کیا جاتا ہے جن میں سے کئی حاملہ خواتین کی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت ہوجاتی ہے۔بی ڈی سی چیئرمین چنگا محمد عباس راتھر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دیہی علاقوں میں بہتر طبی خدمات پہنچانے کا بلند بانگ دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر عوام طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو پیٹ درد ہوتا ہے تو اسے الٹراساؤنڈ کے لئے سو سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ڈوڈہ و کشتواڑ جانا پڑتا ہے جبکہ سی ایچ سی میں الٹراساؤنڈ مشین دستیاب ہے لیکن اسکا چلانے والا کوئی نہیں ہے۔سیاسی و سماجی کارکن ستیش کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سی ایچ سی گندوہ میں ماہر ڈاکٹروں کی ایک درجن سے زائد خالی پڑی اسامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکام دور افتادہ علاقوں میں صحت کے شعبے میں کس قدر بہتری لانے کے لئے سنجیدہ ہے۔سابق ایم ایل سی و نائب ضلع صدر نیشنل کانفرنس محمد اقبال بٹ نے کہا کہ سب ضلع ہسپتال گندوہ میں ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی خالی پڑی اسامیوں کو پورا کرنے کے لئے متعدد بار اعلیٰ حکام سے رجوع کیا لیکن کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے سی ایچ سی گندوہ میں ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل اسٹاف کی خالی پڑی اسامیوں کو پورا کرنے و بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔