ڈوڈہ ضلع کے دیہی علاقوں میں بجلی نظام خستہ حال

ڈوڈہ //حکومت کی جانب سے اگر چہ گھر گھر بجلی فراہم کرنے کے لئے آر جی جی وی وائی و سو بھاگیہ جیسی اسکیموں کو متعارف کرایا جن کے تحت بہتر بجلی نظام بنانے کے لئے کروڑوں روپے کی رقومات واگذار کی جارہی ہیں تاہم ڈوڈہ ضلع کے بیشتر دیہات میں ترقی یافتہ دور میں بھی خاردار تار مکانات کی چھتوں و درختوں کے ساتھ باندھی ہوئیں ہیں اور متعلقہ محکمہ ان کو ہٹانے میں آج تک ناکام رہا ہے۔ ڈوڈہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری ،گندوہ و کاہرہ ،چرالہ ،فیگسو ،چلی پنگل و دیگر مضافات سے کئی وفود نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ترسیلی لائنیں رہائشی مکانات و درختوں سے باندھی گئیں ہیں اور متعلقہ محکمہ سے بار بار رجوع کرنے کے باوجود بھی ان کو ہٹانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ سب ڈویڑن گندوہ کے علاقہ چلی سے ممبر پنچائت الطاف حسین کی قیادت میں وفد نے بتایا کہ بجلی کے ناقص نظام کی وجہ سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ترسیلی لائنیں چھتوں و درختوں کے ساتھ باندھی ہوئیں ہیں وہیں لکڑی کے کھمبے بوسیدہ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں متعدد بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔وفد میں شامل لوگوں نے کہا کہ آج تک کئی لوگ و مال مویشی اس کا بجلی کے ناقص نظام کا شکار ہو چکے ہیں۔ فیگسو سے ممبر پنچائت پرویز کچلو کے مطابق لکڑی کے بوسیدہ کھمبے و سبز درختوں و مکانوں کی چھتوں کے ساتھ نصب ترسیلی نظام مقامی آبادی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے لیکن متعلقہ حکام کی عدم توجہی سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ بھلیسہ کے ایک اور شہری مسرت حسین نے کہا کہ محکمہ بجلی ماہانہ کرایا کی وصولی میں کوئی کٹوتی نہیں کرتا ہے لیکن لکڑی کے بوسیدہ کھمبوں کو ہٹانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کررہا ہے۔بی ڈی سی چیئرمین چنگا محمد عباس راتھر ،بی ڈی سی چیئرپرسن کاہرہ فاطمہ چوہدری، بی ڈی سی چیئرپرسن جکیاس امینہ بیگم و بی ڈی سی چیئرپرسن چلی چوہدری مخو بیگم نے حکام سے ملحقہ علاقوں میں بہتر بجلی نظام بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔