ڈاکٹر فاروق کی رہائی کا سیاسی رہنمائوں نے خیرمقدم کیا

سرینگر//سرکارکی طرف سے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی نظر بندی ختم کرنے پر مختلف سیاسی لیڈان نے اپنے رد عمل کااظہار کر کے فیصلے کو دیر سے ہی مگرصحیح قدم قرار دیا ۔ کے این ایس  کے مطابق 5اگست 2019سے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی نظر بندی ختم کرنے پر مختلف سیاسی لیڈران نے اپنے الگ الگ رد عمل کااظہار کیا ،جس میں تمام لیڈران نے فیصلے کو ایک اچھا قدم قرار دیکرسبھی نظربندسیاسی لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کیا ، تاکہ یہاںساڑے سات ماہ سے معطل سیاسی عمل کو بحال کیاجائے۔ پردیش کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے بتایا کہ فاروق عبداللہ کی رہائی ایک اچھا قدم  ہے کیوں کہ فاروق عبداللہ ایک بزرگ لیڈر ہیں،جو4بار وزیر اعلیٰ اور 2 بار مرکزی وزیر رہے ہیں، تاہم صرف اُن کی رہائی سے یہاں سیاسی عمل شروع نہیں ہوگا۔انہوں عمر عبد اللہ سمیت تمام سیاسی لیڈران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ،تاکہ یہاں سیاسی عمل شروع کیا جائے ۔ اس دوران سی پی آئی ایم لیڈر یوسف تاریگامی نے بتایاکہ سرکارنے اپنی غلطیوں میں سے ایک غلطی کو ٹھیک کیا ہے۔تاریگامی نے بتایا ڈا کٹر فاروق عبد اللہ کو رہا کرنا ایک خوش آئند قدم ہے ۔انہوں نے بتایا فیصلہ اگر چہ دیر سے ہی لیا گیا ہے تاہم ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں سرکار سے ان تمام سیاسی لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو  5اگست2019کے بعد وادی اور بیرون وادی کے جیلوں میں نظر بند ہیں۔انہوں نے بتایا کچھ سیاسی لیڈار ن کو بی جے پی سرکار نے بیرون ریاست کی جیلوں میں منتقل کیا ہے جن کو وہاں مسلسل بند رکھنے سے ان کی حالت خراب ہو ئی ہے ۔ یوسف تاریگامی نے سرکار سے مطالبہ کیاہے کہ تمام سیاسی لیڈران اور نوجوانوں کو رہا کیا جائے تاکہ سیاسی ماحول بحال کیا جائے ۔ ادھر ڈی پی این کے  چیئر مین غلام حسن میر نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی رہائی ایک خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے سرکارسے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزائے اعلی ٰ محبوبہ مفتی اورعمر عبد اللہ کے علاوہ نوجوان سیاست دان ڈاکٹر شاہ فیصل کے علاوہ وادی کے کارو باری افراد اور عام نوجوانوں جن کے بارے میںکوئی بات نہیں کرتا ہے ،کو فوری طور رہا کیا جائے ۔ ادھر پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین نے بتایاکہ فیصلہ خوش آئند ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ باقی لیڈران کو بھی فوری طور رہا کیا جانا چاہے تاکہ 7ماہ سے متاثرہ ہوئے سیاسی ماحول کو بحال کیا جائے ۔ ممبرپارلیمنٹ میرفیاض نے ڈاکٹرفاروق عبداللہ پرعائدپبلک سیفٹی ایکٹ کوہٹائے جانے کاخیرمقدم کرتے ہوئے محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ سمیت تمام نظربندوں کی رہائی کامطالبہ کیا ہے۔نئی دہلی میں ایک نجی نیوزچینل کیساتھ بات کرتے ہوئے پی ڈی پی سے وابستہ راجیہ سبھارُکن میرفیاض کاکہناتھاکہ ڈاکٹرفاروق پرکئی ماہ قبل لاگوکئے گئے پبلک سیفٹی ایکٹ کوواپس لیناایک اچھاقدم ہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ ابھی دوسابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ سمیت کئی مین اسٹریم لیڈرنظربندہیں اوربیرون جموں وکشمیربھی جیلوں میں بڑی تعدادمیں کشمیری بندپڑے ہیں اورایسے تمام نظربندوں کورہاکیاجاناچاہئے ۔ممبرپارلیمنٹ میرفیاض نے اسبات پرزوردیاکہ مرکزی سرکارکوجموں وکشمیرمیں مین اسٹریم لیڈروں کیساتھ بات چیت کاعمل شروع کرناچاہئے تاکہ حالات کومعمول پرلانے میں مددمل سکے ۔