ڈاکٹر فاروق پارلیمنٹ کیلئے بہترین انتخاب

سرینگر//سابق وزیرخزانہ محمدالطاف بخاری نے سرینگر پارلیمانی حلقے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایک انٹرویومیں  بخاری نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر فاروق کے حق میں ووٹ دیں ۔انہوں نے کہا کہ اپنے کارکنوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت وبحث ومباحثے اور تمام سیاسی آپشنز پر غور کرنے کے بعد اُنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات میں سرینگر پارلیمانی حلقہ انتخاب سے نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حمایت کریں گے۔انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ وہ کم سے کم کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کے ساتھ رہے اور کانگریس کے انتخابی منشور میں افسپاکی واپسی کو شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈاکٹر فاروق نے واشگاف طور دائیں بازوکی جماعتوں سے دفعہ35Aاوردفعہ370کے تحفظ کا عہد کیا ہے ۔اُن کی سرشت میں پارلیمنٹ میں خاموش تماشائی کی طرح بیٹھنا نہیں ہے جیسا کہ 2014کے پارلیمانی چنائو میں منتخب ہوئے ہمارے نمائندے خاموش بیٹھے اور جموں وکشمیر کے مفاد میں معاملات پر خاموشی اختیار کرکے عوام کوشرمندہ کیا۔الطاف بخاری نے کہا کہ میں نے اپنے ورکروں اور حمایتیوں کو کہا ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں ڈاکٹر فاروق کو ووٹ دیں ۔الطاف بخاری نے سرینگر کے ووٹروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک اور ریاست کی نازک صورتحال کومدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر فاروق کو کامیاب بنائیں ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب بھی جموں و کشمیر خاص طور سے کشمیرکے مفادات کا معاملہ ہوگا،ڈاکٹر فاروق کھری کھری سناکر صاف گوئی سے کام لیں گے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے نیشنل کانفرنس یا کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے،محمدالطاف بخاری نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات  میں شرکت کے بارے میں ابھی منصوبہ نہیں بنایا ہے ،لیکن اس بارے میں وہ اپنے کارکنوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میںشرکت کے حوالے سے اُن کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ میرے حلقہ انتخاب اور عوام کے مفادمیں ہوگا۔ ملک اور ریاست میں جاری لوک سبھا چنائو پر رائے زنی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اور خصوصاًریاست میںجاری لوک سبھا چنائو فیصلہ کن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کی کئی وجوہات کی بنا پر اہمیت بڑھ جاتی ہے کیونکہ کچھ عناصر کے بلواسطہ یا بلا واسطہ اقدامات کی وجہ سے ریاست کے مفادات کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ کچھ خودغرض عناصرریاست جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ  کو کمزور کرنے کے درپے ہیں یاچاہے وہ دفعہ35Aیا370کو ختم کرنے کا چنائو منشور میں عہد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370مملکت ہند کے ساتھ ہمارے الحاق کا مرکزی حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں کچھ خود غرض عناصر ،گروپوں نے  ملک میں اپنے سیاسی مفادات کیلئے ہماری بچی کچھی اَٹانومی میں مداخلت کی کوششیں شروع کی ہیں ۔الطاف بخاری نے کہا کہ آئین ہند میں ریاست کی خود مختاری محفوظ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ووٹوں کی تقسیم  سے جموں کشمیرکی آواز کوپارہ پارہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ اُن لوگوں کو اقتدار تک پہنچایا جائے جو قانون میں دی گئی ہماری خصوصی پوزیشن کو تبدیل کرنے کیلئے کوشش کر سکیں۔یہ عناصر اپنے سیاسی منصوبوں کیلئے ریاست جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بھی تبدیل کرناچاہتے ہیں۔