چکِ نوگام شوپیان تصادم ملی ٹینٹوں کے فرار ہونے کے بعد ختم

شوپیان // جنوبی ضلع ہیڈکوارٹر سے 14کلو میٹر دورایک گائوں میں بدھ کی شام ایک خونریز معرکہ آرائی شروع ہوئی جس میں رات دیر گئے تک 3فوجی اہلکار شدید طور پر زخمی ہوئے جبکہ ملی ٹینٹ محصور تھے۔پولیس کے آفیشل ٹویٹر اکونٹ پر اطلاع دی گئی کہ چک نوگام نامی گائوں میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کے بعد محاصرے کے دوران مسلح جھڑپ شروع ہوئی۔
 
پولیس ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہانہیں گائوں میں کم سے کم 2ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع می جس کے بعد شام 7بجے 34آر آر، 14بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس ٹاسک فورس شوپیان نے مشترکہ طور پر محاصرہ کیا، لیکن اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر عسکریت پسند بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔
 
ذرائع کا کہنا ہے کہ جونہی ایک مشتبہ جگہ کی طرف فورسز کی ایک پارٹی پیش قدمی کررہی تھی تو ملی ٹینٹوں نے اچانک سیکورٹی فورسز پر حملہ کردیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔
 
ذرائع کا کہنا ہے کہ شام دیر گئے 7بجکر 25منٹ پر فائرنگ ہوئی جس کے بعد مکمل طور پر خاموشی چھا گئی۔ملی ٹینٹوں کی ابتادائی فائرنگ سے فوج کے 3اہلکار شدید زخمی ہوئے جنکی شناخت گنر سوم ویر کمار،لانس نائیک مائنک سنگھ اور لانس نائیک سنیل کمار کے بطور ہوئی ہے، جنہیں فوری طور پر سرینگر کے فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے
 
مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز کوخدشہ تھا کہ ملی ٹینٹوں نے  فائرنگ کے بعدمحمد اسحاق ڈار ولد مرحوم خضر محمد ڈار کے یک منزلہ مکان میں پناہ لی لیکن بعد میں یہاں ملی ٹینٹوں کی موجودگی نہیں ملی۔گائوں کے چاروں طرف سیکورٹی فورسز نے جنریٹرلگاکر روشنی کا انتظام کر لیا اور آپریشن کو وسیع کر کے ملی ٹینٹوں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ شام ساڑھے 7بجے کے بعد گائوں میں کوئی فائرنگ نہیں ہوئی البتہ خوف و ہراس کی صورتحال تھی۔