چندرکوٹ راج گڑھ سڑک پر دلدوز سڑک حادثہ | 11مسافر لقمۂ اجل

بانہال //سنیچرکی صبح ضلع رام بن کے چندرکوٹ راج گڑھ رابطہ سڑک پر پیش آئے سڑک کے ایک دلدوز حادثے میں 4 خواتین اور 13 سال سے کم عمر کے 5 بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ چار دیگر مسافر زخمی ہیں جن میں سے تین شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جموں منتقل کیا گیا ۔ اس سانحہ میں مرنے والوں میں تین کنبوں سے تعلق رکھنے والے7 افراد خانہ شامل ہیں ، جن میں دو جڑواں بھائی اور ان کی ماں بھی شامل ہے۔ 

حادثہ کیسے ہوا؟

شاہراہ پر واقع بغلیہار پن بجلی پروجیکٹ چندرکوٹ کے راستے راج گڑھ تحصیل ہیڈکوارٹر کی طرف جانے والی ایک ٹاٹا سومو زیر نمبر JK14A-0369 مسافروں سے کچھا کھچ بھری ہوئی تھی۔جونہی یہ سوموبغلیہار پاور ہاؤس سے تقریبا ً پانچ کلومیٹردور کنڈہ کے مقام پرایک پہاڑی سے جاری تھی تو سومولڑھک کر کم ازکم چار سو فٹ گہری کھائی میں جاگری۔ حادثے کے فورا ًبعد مقامی لوگوں نے بچاو کاروائیوں کا آغاز اور بعد میں پولیس اور کیو ار ٹی رام بن کے رضاکار بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور گاڑی میں موجود مسافروں کو اوپر سڑکی تک لانے کی کوشش کی۔ حادثہ کے نتیجے میںپانچ افراد کی موت موقع پر ہی واقع ہوگئی جبکہ پانچ مزید زخمیوں نے رام بن ہسپتال منتقل کرنے کے دوران دم توڑ دیا اورایک زخمی نے چندرکوٹ کے آرمی ہیلی پیڈ پر دم توڑ دیا ۔ پہلے زخمیوں کو اور بعد میں ہلاک ہوئے مسافروں کو اس کھائی سے نکال کر ضلع ہسپتال رام بن منتقل کیا گیا جہاں ڈپٹی کمشنر رام بن شوکت اعجاز بٹ اور ایس ایس پی رام بن انیتا شرما بچاو کاروائیوں کی بذات خود نگرانی کر رہے تھے ۔چیف میڈیکل افسر رام بن ڈاکٹر سیف الدین خان نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رام بن پہنچائے گئے تمام دس زخمی پہلے ہی دم توڑ چکے تھے جبکہ ایک زخمی نے جموں ہسپتال لے جانے کے دوران چندرکوٹ کے ہیلی پیڈ پر دم توڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب تین زخمیوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر جموں منتقل کیا گیا  ہے جبکہ ایک زخمی ضلع ہسپتال رام بن میں ہی زیر علاج ہے۔اس دلدوز حادثے کی خبرپھیلتے ہی پورے رام بن میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور سینکڑوں کی  تعداد میں لوگ ہسپتال اور جائے حادثہ پر پہنچے۔

ذمہ دار کون؟

 راج گڑھ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چندر کوٹ راج گڑھ رابطہ سڑک کے اس حادثے کیلئے مبینہ طور پر پی ایم جی ایس وائی کے حکام ذمہ  دار ہیں کیونکہ اس جگہ پر پچھلے کئی ماہ سے سڑک بہت خراب تھی اور وہاں پسی کی وجہ سے گرے درختوں کے اوپر پڑے ملبے سے ہی گاڑیاں گذرتی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام پر سڑک کی خرابی کی طرف کئی بار ایم جی ایس وائی کے حکام کی توجہ مبذول کرائی گئی، لیکن سڑک کی کوئی مرمت نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ خونین حادثہ پیش آیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک اور موٹر وہیکلز ڈیپاڑٹمنٹ کی نا اہلی کی وجہ سے یہ ٹاٹا سومو اپنی گنجائش سے دوگنے مسافروں کو لیکرجا رہی تھی اور حادثے کا شکار ہونے سے پہلے کسی نے اسے چیک نہیں کیا ۔ چندرکوٹ پولیس نے اس معاملے میں ایک کیس درج کرکے معاملے کی مزید تحقیقات شروع کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے زخمیوں کے حق میں پانچ ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ اس حادثے کے محرکات معلوم کرنے کیلئے  تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

شناخت

 حکام نے حادثے میں مرنے والوں کی شناخت 9 سالہ جڑواں بھائی کرن سنگھ اور ارجن سنگھ ولد جسویر سنگھ ، انکی ماں37 سالہ ببلی دیوی،  32 سالہ ارمیلہ دیوی زوجہ منجیت سنگھ، اْنکی دو سالہ بیٹی پری دیوی ، 13 سالہ امانہ بانو دختر ذاکر حسین ۔ ذاکر حسین کی تین ماہ کی بچی۔  60 سالہ رومال دین ولد محمد عبداللہ ساکنان تحصیل راج گڑھ ۔ تیس سالہ روبینہ بیگم زوجہ محمد اکرم ساکن تتارسو رام بن ،  23 سالہ محمد مبین ولد سید اللہ شیخ ساکن برٹن رام بن اور 40 سالہ حسن بی بی زوجہ گلہ گوجر ساکن باگوا دوڈہ کے طور کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حادثے میں اپنی ماں ببلی دیوی کے ہمراہ لقمہ اجل بنے دو جڑواں بھائی پچھلے کئی سالوں سے ادہمپور میں ہی اپنی ماں کے ساتھ مقیم تھے جبکہ انکے والد ٹیچر جسویر سنگھ  کی ڈیوٹی راج گڑھ کے ایک مقامی سکول میں ہی تھی اور وہ جسویر سنگھ سے ملنے کی غرض سے ادہمپور سے راج گڑھ کی طرف آ رہے تھے ۔ اسی طرح منجیت سنگھ کی اہلیہ ارمیلہ اور انکی دو ماہ کی بیٹی پری اور ذاکر حسین کے دوبچے لقمہ اجل بنے ہیں جبکہ زاکر حسین کی اہلیہ زخمی ہیں اور انہیں جموں منتقل کیا گیا ہے۔