پینے کے پانی اور بجلی کی عدم دستیابی

 سرینگر//کنزرٹنگمرگ میں مکمل ہڑتال کے بیچ لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے پینے کے صاف پانی اور بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف سڑکوں پر آکراحتجاجی مظاہرے کئے اورسرینگر گلمرگ شاہراہ پر دھرنا دیکر ٹریفک کی نقل وحمل مسدودکردی ۔کے ایم این کے مطابق پیر کی صبح کنزر ٹنگمرگ کی مختلف بستیوں سے تعلق رکھنے والے صارفین جن میں تاجر اور دکاندار بھی شامل تھے ،نے بڑی تعداد میں بجلی کی سپلائی میں بار بار خلل اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔علاقے میں اس معاملے کو لیکر احتجاج کے بطور ہڑتال کے نتیجے میں ہر طرح کی کاروباری سرگرمیاں معطل رکھی گئیں۔مظاہرین نے سرینگر گلمرگ سڑک پر دھرنا دیکر گاڑیوں کی آمدورفت میں رکاﺅٹ ڈالی اور محکمہ بجلی و پی ایچ ای کے خلاف زور دار نعرے بازی کی۔ احتجاجی صارفین کا الزام تھاکہ محکمہ بجلی نے امسال اپنی مرضی کے مطابق انوکھا شیڈول ترتیب دیاہے جس کے تحت ہردس منٹ کے بعد بجلی چلی جاتی ہے جبکہ وولٹیج بھی نہایت کم ہوتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے سردی کے رواں ایام میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ معاملہ کئی بارمحکمہ کے متعلقہ افسران کی نوٹس میںلایا گیا لیکن کسی نے توجہ نہیں دی جس کے باعث وہ سڑکوں پر آنے کےلئے مجبور ہوگئے۔مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ میٹر والے علاقوں میں بلا خلل بجلی دستیاب رکھی جائے۔ مظاہرین نے محکمہ پی ایچ ای کے ملازمین کی لاپرواہی اور غیر تسلی بخش کا کردگی کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔انہوں نے کہا کہ نالہ فیروز پورہ سے سنگرامہ، پٹن اور بیروہ کے بعض علاقوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن ٹنگمرگ کے علاقے ابھی تک اس سے محروم ہیں۔احتجاجی مظاہرے کرنے کے علاوہ شاہراہ پر رکاﺅٹیں کھڑی کرکے گاڑیوں کی آمدورفت روک دی جس کے نتیجے میں متعدد چھوٹی بڑی گاڑیاں شاہراہ پر درماندہ ہوکر رہ گئیں اور ان گاڑیوں میں سوار مسافروں کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ۔