پیس اینڈ ویلفیئرکمیٹی گول کی میٹنگ

گول//پیس اینڈ ویلفیئرکمیٹی گول کی ایک میٹنگ زیر صدارت صدر کمیٹی عبدالرشید بیگ منعقد ہوئی جس میں کمیٹی ممبران نے گول کے عوامی مسائل پر غور و خوض کیا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ گول سب ڈویژن میں سڑکوں کی حالت نہایت ہی ابتر ہے جس وجہ سے ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن گول میں جتنی بھی سڑکیں ہیں ،چاہے وہ پی ڈبلیو ڈی کے تحت ہو ںیا پی ایم جی ایس وائی کے تحت ،تمام پر تعمیری کام رکا ہوا ہے بالخصوص بلیک ٹاپ نہیں پڑا ،اب ایک یا دو ماہ رہ گئے ہیں اُس کے بعد یہاں پر سیمنٹ کا کام کرنا یا بلیک ٹاپ کرنا فضول ہے کیونکہ اُس کو چھ ماہ بھی نہیں نکلتے ۔ انہوں نے اس موقعہ پر گول سے جموں اور سلبلہ سے رام بن تک گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کا بندو بست کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے ایک قرارداد بھی دی گئی لیکن اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن گول میں جہاں جہاں بھی پرائیویٹ گاڑیاں چلتی ہیں اُن کا کرایہ مقرر نہیں ہے اورمن مرضی کے ساتھ کرایہ وصول لیا جاتا ہے اور اے آر ٹی او اس سلسلے میں ریٹ لسٹ جاری کرنے کے اقدامات کریں جسے گاڑی والوں کو چسپاں کرنے کی ہدایت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ گول میں آناً فاناً مرغ کا ریٹ بڑھادیا گیاجس پر انتظامیہ دھیان دے ۔ پیس اینڈ ویلفیئر کمیٹی نے کہا کہ سرکار نے جانب سے ’’بیک ٹو ولیج‘‘ پروگرام قابل سراہنا ہے لیکن جب تک نہ اس پر زمینی سطح کام کیا جائے تب تک یہ بھی فضول ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن گول میں پانی کی شدید قلت ہے بالخصوص ہسپتال کے نزدیک بور ویل پر تعمیری کام جلد پورا کیا جائے جس سے کافی علاقوں میں پانی مہیا ہو سکے گا ۔ انہوں نے اس موقعہ پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاک بنگلہ میں پابندی نا قابل برداشت ہے اور یہاں کی سماجی تنظیموں کو ڈاک بنگلہ میں میٹنگیں کرنے پر منع کرنا کہاں کا انصاف ہے ، تنظیمیں لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرتی ہیں ۔ کمیٹی کے صدر نے کہا کہ ڈاک بنگلہ عام لوگوں کی جائیدادہے جہاں انتظامیہ نے خود قبضہ کر رکھا ہے اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی کا آفس کئی سال سے یہاں چلتا آیا ہے جس پر آج تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس سلسلے میں ایس ڈی ایم گول غیاث الحق نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے اندر اندر بور ویل پر تعمیری کام مکمل کیا جائے گا اور اُس کے بعد اس کو چالو کیا جائے گا ۔ انہوں نے ڈاک بنگلہ کے حوالہ سے بات کی ہے کہ یہاں پر کوئی بھی سماجی تنظیم سند یافتہ نہیں ہے اور ڈاک بنگلہ میں فیس بھرنی پڑتی ہے جو کوئی نہیں بھرتا ہے اور آئندہ جو بھی میٹنگ ہو گی ڈاک بنگلہ میں اُس کے لئے با ضابطہ طو رپر فیس بھری جائے گی اور یہاں پر ایک جے آر اس کے لئے تعینات کیا جائے گا ۔