پہاڑی قبیلہ کو شیڈول ٹرائب کادرجہ دینا غیر آئینی نہیں

جموں//پہاڑی ٹرائب ایس ٹی فورم نے کچھ حلقوں کی طرف سے پہاڑی قبیلے کو ایس ٹی کا درجہ دینے کے مطالبے کو کم کرنے کی کوشش کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔جموںمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈوکیٹ احسان مرزا نے دعویٰ کیا کہ بعض حلقے جھوٹے بیانیے بنانے کے لیے میڈیا کے کچھ پلیٹ فارمز کو بھی استعمال کر رہے ہیں، اس طرح غیر ضروری شکوک و شبہات اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔تحصیلدار آر ایس پورہ کی طرف سے اٹھائے گئے حالیہ مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مرزانے کہا کہ 2017 میں جیت لال گپتا کی سربراہی میں ریاستی کمیشن برائے پسماندہ طبقات نے محکمہ سماجی بہبود اور اُس وقت کے گورنر جموں و کشمیرکی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے پہاڑی بولنے والے علاقوں کی شناخت ، معیارکار،پی ایس پی قرار دینے کے ضابطہ کواور اس طرح کے دیگر مسائل کو پہلے ہی حل کرلیا ہے تو اب اس کے باوجود اس قسم کے کنفیوژن پیدا کرنا معصوم عوام کو بے وقوف بنانا اور ماہر پینلز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرنا ہے۔انہوںنے مزید بتایا کہ ریاستی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی سفارشات کے مطابق ریاست میں پہاڑیوں کی کل آبادی میں سے 74 صرف پونچھ اور راجوری ضلع میں رہتے ہیں اور تقریباً 16 اوڑی، بونیار، کیرن اور کرناہ تحصیلوں کے کمپیکٹ جغرافیائی علاقوں میں رہتے ہیں، اس طرح پہاڑی بولنے والے 90فیصد لوگوں کی واضح طور پر شناخت ایک ایسے گروپ کے طور پر کی گئی ہے جس میں راجوری، پونچھ، اوڑی، بونیار، کیرن اور کرناہ کی پوری آبادی شامل ہے، صرف 10فیصد ایک ٹکڑا حصہ ہے جو بکھری ہوئی بستیوں میں پایا جاتا ہے وہ بھی وادی کشمیر میں۔ایڈوکیٹ گردیو ٹھاکر نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں صوبے میں پہاڑی قبائل کے لوگ صرف راجوری پونچھ کے جڑواں سرحدی اضلاع میں رہتے ہیں جن کی شناخت مختلف پینلز اور کمیشن نے کی ہے۔ ایڈوکیٹ گرودیو نے مزید کہا کہ راجوری پونچھ کا ہر فرد سوائے ایس سی/ایس ٹی کے پہاڑی قبیلے کا رکن ہے۔انہوں نے ایسے حلقوں اور شخصیات کو متنبہ کیا جو نقاب پوش، ذاتی اور بھیس بدل کر غیر ضروری الجھنیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میڈیا کوارٹرز سے گزارش ہے کہ وہ فریق نہ بنیں اور رپورٹنگ سے پہلے ماہر پینلز اور کمیٹیوں کی سفارشات کا مطالعہ کریں یا دوسرے فریق کے کسی ماہر سے بھی مشورہ کریں اور یہ صحت مند صحافت کی اخلاقیات کو بحال کریں۔