پونچھ میں منشیات کا بڑھتارجحان ،مقامی عوام پولیس پر برہم

منڈی//پونچھ میں منشیات کے کاروبار میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہاہے جس پر قابو پانے کیلئے اگرچہ پولیس کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے مگر نشیلی ادویات کے عادی افراد کی تعداددن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے ۔منگل کے روز بس اڈہ پونچھ کے مقام دو نوجوانوں کو نشے کی حالت میں چوراہے پر گرے ہوئے دیکھاگیا جنہیں پولیس نے وہاں سے اٹھاکر ضلع ہسپتال منتقل کیاگیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں بھیج دیاگیا۔ان نوجوانوں کی شناخت امتیاز احمد ولد محمد رشید ساکن کامسر پونچھ اور کلدیپ راج ولد کاکا رام ساکن سندر بنی راجوری کے طور پر ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں نوجوانوں نے کوئی نشہ آور شے کا استعمال کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے دونوں نوجوان بے ہوش ہوگئے۔ ضلع ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ابھی یہ بتانا قبل از وقت ہوگاکہ دونوں نے کس نشیلی شے کا استعمال کیاہے لیکن ان کے طبی معائنہ کے دوران اس کا پتہ چل جائے گا۔نشے کی حالت میں نوجوانوں کی تصاویرسوشل میڈیا پر گردش بھی کررہی ہیں جس پر لوگوں میں سخت تشویش پائی جارہی ہے ۔پونچھ کی سیول سوسائٹی نے دونوں نوجوانوں کی حالت دیکھ کر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ پولیس آئے روز منشیات کے نام پر تقریبات منعقد کرتی ہے اور روزانہ قانونی کارروائیوں کے دعوے کئے جاتے ہیں مگر ان دو نوجوانوں کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان تقریبات سے کچھ حاصل نہیں ہورہا ۔انہوں نے کہا کہ پونچھ شہر میں اس سے پہلے بھی متعدد نوجوان نشیلی ادویات کھا کر اپنی جانیں گنوابیٹھے ہیں اور ضلع کے دیگر علاقوں سے بھی ایسے معاملات سامنے آئے لیکن پولیس اس ناسور پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ ڈی وائی ایس پی ہیڈ کوارٹر پونچھ نواز کھانڈے نے بتایا کہ پولیس کو بس اڈہ پونچھ سے دو نوجوان بے ہوشی کی حالت میں ملے جن کو ضلع ہسپتال پہنچایاگیا۔