پونچھ قلعہ کے گردو نواح سے غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کا مطالبہ

پونچھ//حقوقِ انسانی اور سماجی کارکن کمل جیت سنگھ نے پونچھ شہر کے تاریخی قلعہ کے گردو نواح میں جاری غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کو نہ ہٹائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس معاملہ پر سادھی گئی مُکمل چُپی اور پونچھ کی دو تاریخی عمارتوں قلعہ پونچھ اور باغ ڈیوڈھی کی تعمیرات کی مسماری تشویش کا باعث ہے ۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ اس وقت پونچھ کی موجودہ انتظامیہ اس قدر کمزور ہے کہ اس مسئلہ سے متعلق ہر آفیسراپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑ کر اپنا بوجھ دوسرے کے سر مڑھ کر ٹال مٹول کرتا نظر آتا ہے حالاںکہ پونچھ کے اس آثارِ قدیمہ کے ارد گِرد ہو رہی ناجائز تعمیرات کی روک تھام پر ریاستی محکمہ آثارِ قدیمہ نے پونچھ ضلع انتظامیہ کو دو عدد خطوط زیر نمبر DDJ/27-29/SPM-76 dated 12/02.2019   اورDDJ/30-32/2019/SPM-76 dated 15/04/2019   تحریر کرکے اِن ناجائز تعمیرات کو مسمار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس سب کے باوجود سول و پولیس انتظامیہ نے اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ کمل جیت سنگھ نے بتایا کہ اس کے بعد اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کو اس متعلق تحریری طور پر بھی مطلع کیا ہے۔موصوف نے بتایا کہ قلعہ مبارک کے عین سامنے گزشتہ ایک ماہ سے جاری غیر قانونی تعمیرات مسمار نہ کئے جانے کی وجہ سے مزید افراد نے تاریخی عمارت کے آس پاس تعمیر کے لئے میٹریل اکٹھا کر رکھا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ یہ سارا کام سی ای او میونسپل کونسل کی نگرانی میںہو رہاہے۔ کمل جیت نے ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے کمزور آفیسران کو یہاں سے جلد ہٹایا جائے تاکہ پونچھ قلعہ کی تاریخی حیثیت کو بحال کیا جا سکے۔اُنہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک اس غیر قانونی تعمیرات کو مسمار نہ کئے جانے کے سلسلہ میں اس معاملہ کی اینٹی کرپشن بیورو ACB)) سے تحقیقات کروائی جائے تاکہ پونچھ کے اس قدیم تاریخی ورثے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ اُنہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز اور ڈائریکٹر محکمہ آثارِ قدیمہ جموں و کشمیر کو پونچھ روانہ کریں تاکہ وہ از خود اِن خلاف ورزیوں کو موقع ملاحظہ کر سکیں اور اکیس کنال نومرلہ اراضی پر تعمیر اس تاریخی عمارت کی مکمل پیمائش کروا کر اس کی زمین کو تحفظ فراہم کرایا جا سکے۔