پولیس نے ریاست کے 31نجی اسکولوں کی نشاندہی کرلی

 سرینگر// ریاست کے نجی اسکولوں میں پولیس اہلکاروں کے بچوں کیلئے20 فیصد نشستوں کو مخصوص رکھنے اور ماہانہ فیس میں30فیصد رعایت دینے پر طرفین میں جاری مخاصمت کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے، کہ پولیس نے سرینگر میں10 ایسے اسکولوں کی نشاندہی کی ہے۔ پولیس کی طرف سے نجی اسکولوں میں داخلہ کے دوران اہلکاروں کے بچوں کیلئے نشستوں کو مخصوص رکھنے کیلئے نجی اسکولوں کے منتظمین کو گزشتہ دنوں مکتوبات روانہ کئے گئے تھے۔مکتوب زیر نمبرHQA/41/2018محرر 23مارچ2018کو نجی اسکول منتظمین کے نام روانہ کیا گیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس ہیڈ کوارٹر نے ایک کمیٹی کو تشکیل دیا ہے،جس کا مقصد معروف اسکولوں کے ساتھ رابطہ قائم کر کے پولیس اہلکاروں کے بچوں کیلئے جماعتوں میں نشستوں کو مخصوص رکھنے اور انکے فیس میں رعایت فراہم کرنے کے معاملات طے کرنے ہونگے۔مذکورہ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے ’’ اس کے بدلے پولیس ان اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سال بھر منعقد ہونے والے اہم قومی و اسکولی تقریبات کیلئے تربیت فراہم کریگی‘‘۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کئی اضلاع کے ایس ایس پیز کو بھی مطلع کیا گیا ،کہ وہ اپنے علاقوں میں اعلیٰ درجے کے نجی اسکولوں کی نشاندہی کریں،اور متعلقہ اسکول منتظمین سے20فیصد مخصوص نشستوں کو رکھنے اور30فیصد فیس میں رعایت کے معاملے پر تبادلہ خیال کریں۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں سرینگر میں 10معروف اسکولوں کا انتخاب عمل میں لایا گیا،جن میں برن ہال،گرین ویلی ایجوکیشنل انسٹی چیوٹ،پرزنٹیشن کانونٹ، ٹینڈل بسکو اسکول۔ سلفیہ مسلم انسٹی چیوٹ،میلنسن گرلز اسکول،ووڑ لینڈ ہاوس اسکول،دہلی پبلک اسکول، اقرا انٹرنیشنل اسکول اور نیو ایرا پبلک اسکول شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح جموں ضلع میں بھی معروف10اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے،جن میں ہیرٹیج اسکول،جے کے پبلک اسکول،جودھا مل اسکول،دہلی پبلک اسکول، ماڈل انسٹی چیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ،کے سی انترنیشنل اسکول،پززنٹیشن کانونٹ،جے پی ورلڈ اسکول،بانیان انٹرنیشنل اسکول،جی ڈی گونیکا اسکول اس فہرست میں شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ادھمپور میں5اور کھٹوعہ میں6اسکولوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔پرائیویٹ اسکول ایسو سی ایشن کے صدر انجینئر غلام نبی وار نے  اس سلسلے میں کہا کہ آج پولیس کے بچوں کیلئے فیس میں رعایت اور نشستوں کو مخصوص رکھنے کی ہدایت جاتی ہے،اور کل کو فوج،فورسز اور دیگر دستوں  کے اہلکاروں کیلئے ایسا ہی فرمان جاری کیا جائے گا۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اس طرز عمل کو پولیس کی طرف سے براہ راست تعلیمی شعبے میں پولیس کی دخل اندازی کے مترادف قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کو پہلے ہی مالی خسارے کا سامنا ہے،اور مزید رعایت کو برداشت کرنے کی سقت نہیں ہے