پولنگ کے اختتام پر لنگیٹ میں تصادم، 7ویں جماعت کا طالب علم جاں بحق

 لنگیٹ،بانڈی پورہ، حاجن ، اور بومئی میںجھڑپیں،پولنگ عملہ کے3اراکین مضروب

 
کپوارہ//کرالہ گنڈ لنگیٹ میں پولنگ کے خاتمے سے قبل مظاہرین پر پیلٹ کے استعمال سے 7ویں جماعت کا طالب علم جاں بحق ہوا۔شمالی کشمیر میں لنگیٹ ، بانڈی پورہ،حاجن اور پلہالن میں پولنگ کے دوران مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران لنگیٹ میں ہلاکت کا واقعہ پیش آیا جبکہ دو پولیس اہلکار اور ایک پولنگ آفیسر زخمی ہوئے۔کرالہ گنڈ لنگیٹ میں دن بھر مظاہرین اور فورسز میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یہاں صبح کے وقت صرف 15ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد لوگ پولنگ مراکز کی طرف نہیں گئے۔شام کے وقت پولنگ ختم سے تھوڑا قبل کرالہ گنڈ سے آدھ کلو میٹر دور منڈی گام میں جب حفاظتی عملہ واپس جانے لگا تو مظاہرین نے ان پر شدید پتھرائو کیا ، جس کے جواب میں شلنگ اور پیلٹ کا استعمال کیا گیا۔اس دوران ساتویں جماعت کے طالب علم12سالہ اویس احمد میر ولد ولد مشتاق احمد میر ساکن منڈی گام کرالہ گنڈ کی چھاتی میں پیلٹ لگے اور وہ شدید زخمی ہوا۔اسے فوری طور پر پہلے کرالہ گنڈ اور بعد میں ہندوارہ ضلع اسپتال لیا گیا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔اس ہلاکت کے بعد کئی دیہات کے لوگ کرالہ گنڈ میں جمع ہوئے اور مظاہرے شروع کئے۔اس دوران لنگیٹ ٹاو ن میں پولنگ عملہ کو لیجانے والی گاڑی پر مظاہرین نے پتھرائو کیا جس کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل مقبول حسین  اوروجے کمار کے علاوہ پولنگ آفیسرغلام حسن وانی معمولی زخمی ہوئے۔دریں اثناء پولنگ کے دوران لنگیٹ اسمبلی حلقہ میں کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ہم پورہ میں جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران شلنگ کی گئی اور فورسز نے نعیم احمد خان کو گرفتار کیا جبکہ کئی مکانوں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔بیگ پورہ، کرالہ گنڈ اور دیگر مقامات پر بھی جھڑپیں ہوئیں۔نہامہ کرالہ گنڈ لنگیٹ میں ایک پولنگ سٹیشن پرصبح صرف 2 ووٹ پڑے تھے کہ وہاں مشتعل نوجوانوں نے پولنگ مرکز پر پتھرائو شروع کر دیا  ۔صبح دس بجے جیسے ہی کشمیر عظمیٰ کی ٹیم بائز مڈل سکول نہامہ کرالہ گنڈ پہنچی تو وہاں سکول عمارت میںقائم پولنگ سٹیشن پر نوجوانوں نے جم کر پتھرائو کیا جس کی وجہ سے وہاں قریب آدھے گھنٹے تک پولنگ بند رہی۔پولنگ بوتھ پر اس قدر پتھرائو جاری تھا کہ سکول کے شیشے ٹوٹ گئے ۔قریب 15منٹ بعد پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی نفری علاقے میں پہنچی جنہوں نے مشتعل نوجوانوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا ۔پرے محلہ حاجن میں مکمل بائیکاٹ کے دوران دن بھر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔ادھر نائد کھے میں این سی اور بھاجپا پولنگ ایجنٹوں کے درمیان شدید ماپیٹ ہوئی جس کے بعد یہاں پولنگ میں خلل پڑا ۔ اس دوران پولنگ مرکز پر حملہ کرنے کی کوشش کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج اور شلنگ کی۔پالہالن میں صبح کے وقت پانچ ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران ایک خاتون زخمی ہوئیں۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران فورسز نے گولیان چلائیں، جس کے باعث یاسین احمد بٹ  ولد غلام محمد بٹ بٹ محلہ پلہالن نامی 12جماعت کا طالب زخمی ہوا۔ جس کی ٹانگ اور بازو میں گولیاں لگی ہیں اور اُسے نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا۔بومئی سوپور میں سہ پہر کے بعد پولیس اور مظاہرین کے دوران پتھرائو اور شلنگ ہوئی۔ادھربانڈی پورہ ضلع میں کئی مقامات پر پولنگ کا بائیکاٹ کیا گیا ۔حاجن قصبہ میں مکمل بائیکاٹ کیا گیا جہاں 12پولنگ مراکز میں8351میں سے صرف 22ووٹ پڑے۔یہاں 11پولنگ بوتھوں پر کوئی پولنگ ایجنٹ بھی نہیں تھا، صرف انمل ہسبنڈری عمارت میں قائم ایک پولنگ مرکز پر این سی کا ایجنٹ دیکھا گیا۔قصبہ میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔یہاں ایک پولنگ مرکز میں کوئی بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ادھر بانڈی پورہ میں کئی مقامات پر بائیکاٹ کیا گیا۔قصبہ بانڈی پورہ کے علاوہ لانکریشی پورہ مڈل سکول میں قائم پولنگ مرکز پر مظاہرین نے پتھرائو کیا۔اجس مڈل سکول، صدر کوٹ بالا،پازل پورہ اور چک ریشی پورہ میں قائم پولنگ مراکز کے باہر نوجوان نعرے بازی کرتے رہے جس کے نتیجے میں صبح کے بعد یہاں پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔اسکے علاوہ اشٹینگو، آلوسہ،نادی ہل، صدر کوٹ پائین، ملنگام، سنر ونی اور دیگر کئی مقامات پر بہت کم ووٹ ڈالے گئے۔بہار آباد خمینو حاجن میں شام کے وقت فورسز اہلکار گھروں میں گھس گئے اور سرپنچ اسد اللہ بٹ سمیت کئی گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ واقعہ کے بعد یہاں احتجاجی مظاہرے رات گئے تک جاری رہے۔ادھرلنگیٹ کے اپر قاضی آباد اور لور قاضی آباد علاقوں میں بائیکاٹ کا اثر دیکھا گیا۔قاضی آباد کے ہندون پورہ ، گنڈ چبوترہ، کنل،عشپورہ،ولرامہ،لور قاضی آباد، ہم پورہ، پنڈت پورہ،کرالہ گنڈ ، سپر ناگہامہ،منڈی گام،سہی پورہ،کچھلو،ونہ گام ،بدرا، راولپورہ،بیگ پورہ میں پولنگ کا بائیکاٹ کیا گیا۔بابا گنڈ لنگیٹ ، جہاں پچھلے ماہ 72گھنٹے کی جھڑپ ہوئی تھی، میں بائیکاٹ کیا گیا اور یہاں صرف 5ووٹ ڈالے گئے۔کرالہ گنڈ میں صرف 15ووٹ ڈالے گئے جبکہ سہی پورہ اور کچھلو میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔اس دوران سوپور اور بارہمولہ اولڈ ٹاون میں بھی بائیکاٹ رہا۔ سوپور میں کہیں کہیں اکا دکا ووٹر پولنگ بوتھ پر آتے رہے لیکن مجموعی طور پر لوگوں کی کثیر تعداد گھروں میں ہی رہی۔اسی طرح کی صورتحال اولڈ ٹائون بارہمولہ میں تھی۔یہاں ووٹنگ کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔