پوسٹ گریجویٹ طالب علم کی پر اسرار گمشدگی

 سرینگر//شعبہ علوم ارضیات کے طالب علم کی پُراسرارگمشدگی کولیکریونیورسٹی طلاب کااحتجاج تیسرے روزبھی جاری رہاجبکہ بدھ کووائس چانسلرکشمیریونیورسٹی نے احتجاجی طلاب کوبتایاکہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی سمیراحمدکی گمشدگی کولیکرسخت فکرمندہے اوراُسکاسراغ لگانے کیلئے پولیس حکام سے رجوع کیاگیاہے ۔ کشمیریونیورسٹی کے شعبہ علوم ارضیات یعنی ارتھ سائنس میں زیرتعلیم طلاب علم سمیراحمدڈارساکنہ کاکہ پورہ پلوامہ رواں ماہ کی19تاریخ کوپُراسرارطورپرلاپتہ ہوگیااوراب بتک اسکے بارے میں اہل خانہ یاپولیس کوکوئی سراغ نہیں مل پایاہے۔سمیرڈارکی پُراسرارگمشدگی کے بعدکشمیریونیورسٹی میں زیرتعلیم متعلقہ شعبہ کے طلاب نے تین روزقبل اپنے اس ساتھی کی بازیابی کے مطالبے کولیکرکلاسوں کابائیکاٹ اوراحتجاج شروع کیا۔بدھ کے روزبھی ڈیپارٹمنٹ آف ارتھ سائنس کشمیریونیورسٹی کے طلباء اور طالبات احتجاج کرتے رہے ،وہ مانگ کررہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی سمیرڈارکی بازیابی میں اپنارول اداکرے ۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے احتجاجی طلاب کیساتھ بات کی اوراُنھیں بتایاکہ یونیورسٹیء انتظامیہ بھی سمیراحمدکی پُراسرارگمشدگی کولیکرسخت فکرمندہے ۔انہوں نے طلاب کویہ بھی بتایاکہ سمیرکی گمشدگی کامعاملہ یونیورسٹی چانسلر(گورنر)اورپرئوچانسلر(وزیراعلیٰ )کی نوٹس میں بھی لایاگیاہے۔وائس چانسلرنے طلاب کوبتایاکہ سمیراحمدکی گمشدگی کے حوالے سے24مارچ کوڈی جی پی کوایک خط لکھ کراُن سے لاپتہ طالب علم کی بازیابی میں مدددینے کی اپیل کی گئی ۔ انہوں نے احتجاجی طالب علموں کوبتایاکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سلسلے میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے جوسمیرڈارکاسراغ لگانے کیلئے پولیس حکام کیساتھ رابطے میں ہے۔وائس چانسلرنے طلاب سے پُرامن رہنے کی تلقین بھی کی ۔