پنچایتی انتخابات کا چوتھا مرحلہ …خطہ پیر پنچال میں بھاری ووٹنگ ،رائے دہندگان میں جوش و خروش دیکھاگیا

 راجوری //پہلے تین مرحلوں کی طرح چوتھے مرحلے میں خطہ پیر پنچال میں ووٹنگ کی شرح کافی زیادہ رہی اور اس دوران اسی فیصد سے زائد لوگوں نے اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا ۔اس مرحلے میں راجوری پونچھ کے تین بلاکوں میں پولنگ ہوئی جہاں مجموعی طور پر ووٹنگ کی شرح اسی فیصد سے زائدرہی ۔ اس دوران راجوری کے ڈونگی اور قلعہ درہال جبکہ پونچھ ضلع کے پونچھ بلاک میں ووٹنگ ہوئی ۔اعدادوشمار کے مطابق ڈونگی اور قلعہ درہال بلاکوں میں ووٹ پڑنے کی شرح بالترتیب 82.25فیصد اور81.14فیصد رہی جبکہ پونچھ بلاک میں 82.47فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ۔ دونوں اضلاع میں مسلسل چوتھی مرتبہ ووٹنگ کی شرح اسی فیصد سے زیادہ رہی ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ لوگ بڑی تعدا دمیں ووٹ دینے کیلئے سامنے آرہے ہیں ۔ڈونگی بلاک میں کل ووٹوں کی تعداد21494ہے جن میں سے 17678پول ہوئے جبکہ قلعہ درہال بلاک میں 12251ووٹوں میں سے 9940ووٹ ڈالے گئے ۔دریں اثناء پونچھ بلاک کی 26پنچایتوں اور202وارڈوں میں بھی لگ بھگ تراسی فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔اس دوران انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے ۔اگرچہ الیکشن کے حوالے سے لوگوں میں کافی جوش و خروش پایاجارہاتھا تاہم کئی مراکز میں عملے کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی کاسامناکرناپڑااور ان کی رات اندھیرے میں گزرگئی۔عملے نے بتایاکہ روشنی کے لئے انہوں نے وہ شمعیں روشن کی جو ان کو پولنگ کے لئے دستیاب کی گئی تھیں۔ چوتھے مرحلے کے انتخابات کے دوران لوگوں نے جوش و خروش کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا اوراس مقصد سے وہ صبح سویرے سے ہی لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوگئے ۔ اس دوران ہر عمر کے لوگ جن میں بزرگ، خواتین خصوصی طور پر وہ نوجوان جو پہلی بار اپنا حق رائے دہندگی ادا کر رہے تھے ،میں جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔نوجوان پرینکا نے بتایاکہ وہ پہلی بار اپنا ووٹ دے رہی ہے اور اور وہ ایسے امیدوار کو کامیاب دیکھناچاہتی ہے جو عوامی و سماجی خدمات اچھے ڈھنگ سے انجام دے سکے ۔بھینچ کی رہنے والی اس نوجوان لڑکی نے بتایاکہ اس کے علاقے میں سڑک، پانی  اور دیگر سیولیات کی کمی کاسامناہے تاہم اسے امید ہے کہ اب کی بار تبدیلی رونماہوگی۔
 

مریض کو چارپائی پر اٹھاکر پولنگ مرکز لایاگیا

سمت بھارگو
راجوری //پونچھ کے کھنیتر علاقے میں سبھی لوگ اس وقت حیران رہ گئے جب 67سالہ مریض کوووٹ دینے کیلئے چارپائی پر اٹھاکر پولنگ اسٹیشن لایاگیا۔صید اللہ ولد جمال دین ساکن کھنیتر پونچھ کو چند سال قبل ایک حادثے پیش آیا جس کی وجہ سے اس کی دونوں ٹانگیں ناکارہ ہوگئیں اور وہ چلنے کے قابل نہیں رہا۔تاہم معذوری اور بزرگی کے باوجود اس نے ووٹ دیا جس کیلئے اس کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو ایک چارپائی کا انتظام کرناپڑا جس پر اٹھاکر اسے پولنگ اسٹیشن لایاگیا۔صید اللہ کاکہناہے کہ اس کیلئے یہ کام انتہائی مشکل تھا اور پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے کیلئے ایک کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرناتھا لیکن گھر والوں نے اس کی مدد کی اور وہ چارپائی کے ذریعہ یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوااور اب ووٹ دے کر خوشی ہورہی ہے ۔
 

 سرحد ی مکینوں نے پانی اور بجلی کیلئے ووٹ دیا

سمت بھارگو
راجوری //راجوری کے کیری علاقے میں ہندوپاک افواج کے مابین کشیدگی ہمیشہ خوف کا سایہ فگن رہتاہے جہاں کے لوگوں کو کشیدگی کے علاوہ بھی کئی طرح کے مسائل کاسامناہے ۔ اس علاقے کے لوگوںنے ووٹنگ کے روز گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشن پر گہما گہمی کا ماحول بنایا اور پانی و بجلی کی سپلائی و راجوری بی پی سڑک پر ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولت کیلئے اپنے اپنے حق رائے دہی کا اظہار کیا ۔سرحدی گائوں رتل و بسالی سے بڑی تعداد میں لوگ مڈل سکول بسالی میںجمع ہوئے جہاں پنچایت چھلاس کیلئے پولنگ اسٹیشن قائم کیاگیاتھا۔یہ علاقہ حد متارکہ سے بہت کم دوری پر واقع ہے جہاں فائرنگ اور گولہ باری معمول کے واقعات ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ووٹ بنیادی مسائل کے حل کی خاطر دیاہے ۔ان کاکہناتھاکہ علاقے کے چند گھروں میں ہی پانی کی سپلائی ہوگی جبکہ بجلی کی صورتحال انتہائی خراب ہے ۔انہوں نے کہاکہ انہوںنے بہتر ٹرانسپورٹ سروس کیلئے بھی ووٹ کا استعمال کیاہے ۔ایک مقامی شخص شبیر حسین نے بتایاکہ اس مرتبہ یہاں پولنگ کی شرح 85فیصد سے زیادہ رہی ہے اور اس کی وجہ لوگوں کا اپنے مسائل کے حل کی امید میں باہر نکلناہے ۔
  
 

عمر رسیدہ افراد بھی پولنگ مرکز پر لائے گئے

سمت بھارگو
راجوری //چوتھے مرحلے کے انتخابات کے دوران بڑی تعداد میں عمر رسیدہ افراد کو بھی گھروالوں اور رشتہ داروں کی مدد سے پولنگ اسٹیشن پہنچایاگیا جہاں انہوں نے اپنے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔گھائی چٹیار علاقے کی رہنے والی 95سالہ گلزار بیگم نے پنچایت دھنون میں اپنے گھر والوں کے ہمراہ ووٹ دیا ۔وہیں چٹیار کے 114سالہ شیر محمد نے بھی اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔شیر محمد علیل ہیں اور چل نہیں پاتے لیکن انہیں اہل خانہ کی طرف سے پولنگ اسٹیشن تک پہنچایاگیاجہاں انہوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا ۔اسی طرح سے ڈونگی بلاک کے منیالہ مہاری گائوں کے ایک بزرگ جوڑے نے بھی ووٹ دیا۔ یہ جوڑا گورنمنٹ ہائی سکول کیری میں قائم کئے گئے پولنگ اسٹیشن پہنچااور اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔80سالہ محمد صادق ولد الطاف محمد اور ان کی 76سالہ اہلیہ زینم بی نے صبح گیارہ بجے پولنگ اسٹیشن پہنچ کر ووٹ دیا۔
 

پنتھال میں تصادم سے افراتفری

ووٹروں کوپولنگ اسٹیشن میں حراساں کرنیکا الزام 

عظمیٰ نیوز
 
راجوری //راجوری کے ڈونگی بلاک کی پنچایت پنتھال کے کچھ ووٹروںنے پولنگ اسٹیشن میں شرپسند عناصر کی طرف سے حراساں کرنے کا الزام عائد کیاجبکہ علاقے میں افراتفری کا ماحول بھی پیداہوا ۔پرائمری سکول پنتھال میں قائم کئے گئے پولنگ مرکز میں آٹھ ووٹر ووٹ دینے کیلئے آئے جہاں کچھ لوگوں نے ان کے ساتھ مزاحمت کی اور تصادم ہونے لگا۔ایک مقامی شخص نے بتایاکہ کچھ شرپسندوںنے رائے دہندگان کو حراساں کیا اور وہ آٹھ ووٹران کو ووٹ دینے کیلئے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے جو الیکشن قوانین کی صریحاًخلاف ورزی ہے ۔انہوںنے الزام عائد کیاکہ پولنگ عملہ اور ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے بھی شرپسندوں کا ساتھ دیا۔ دریں اثناء تصادم پر علاقے میں افراتفری کا عالم پیدا ہوا اور بڑی تعداد میںلوگ پولنگ اسٹیشن کی طرف دوڑپڑے ۔ایک افسر نے بتایاکہ تصادم دس منٹوں تک جاری رہا اور پورے علاقے میں افراتفری کو دیکھتے ہوئے ڈی وائی ایس پی رینک کا ایک افسر موقعہ پر پہنچا اور حالات کو قابو کیاگیا۔
 
 

بکروال کنبہ ووٹ دینے ڈھوک سے واپس آگیا

سمت بھارگو
راجوری //85سالہ بزرگ حسن دین اور35سالہ زنیرہ جان کا تعلق بکروال کنبے سے ہے جن دونوں نے پولنگ اسٹیشن چٹیار دھنون میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔حسن دین ولد بہادر علی کلر علاقے کا رہائشی ہے جسے پولنگ اسٹیشن کے باہر لمبی قطار میں کھڑے دیکھاگیا۔اس نے بتایاکہ وہ کشمیر میں تھا تاہم چار روز قبل یہاں پہنچاہے اور اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کیلئے بے تاب ہے ۔اس کاکہناہے کہ وہ حق رائے دہی کا استعمال کرنے کیلئے یہاں آیاہے ۔اسی طرح سے زنیرہ بیگم زوجہ عبدالغنی چٹیار کی رہنے والی ہے جس نے بھی ووٹ کے حق کا استعمال کیا ۔ زنیرہ بیگم کو ٹانگوں میں درد تھا کیونکہ چند ماہ قبل اسے ایک حادثہ پیش آیا تاہم اس کے باوجود وہ ووٹ دینے پہنچی ۔زنیرہ کاکہناہے کہ وہ یہاں تک پہنچنے کے قابل نہیں تھی کیونکہ زخم کی وجہ سے درد ہے لیکن پھر بھی کشمیر سے یہاں پہنچی ہے۔
 

 پہلی بار کے رائے دہندگان سماجی تبدیلی کیلئے پُرامید

سمت بھارگو
راجوری //راجوری کی پنچایت سسلکوٹ میں تین نوجوان دوست قطار میں کھڑے ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ان تینوں کاکہناہے کہ ان کے ووٹ سے سماج میں مثبت تبدیلی واقع ہوگی ۔انیس سالہ سورو کمار ولد پرس رام، انیس سالہ اجے کمار ولد سنجے کمار اور بیس سالہ وکرم کمار ولد ست پال ساکنان سسلکوٹ نے زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ دیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم اچھے امیدوار کیلئے ووٹ دیں گے تو اس سے واقعتاًتبدیلی رونماہوگی ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اچھے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیں ۔
 

 بہرے اور گونگے دوستوں نے ووٹ دیا

سمت بھارگو
راجوری //راجوری کے ڈونگی بلاک کی پنچایت سسلکوٹ میں دو بہرے اور گونگے دوستوں نے بھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔اس بلاک میں چوتھے مرحلے کے تحت ووٹنگ ہوئی ۔24سالہ گولڈی کمار ولد یوگ راج اور 25سالہ مکیش کمار ولد وید پرکاش ساکنان سسلکوٹ دونوں ہی آپس میں دوست اور قوت گویائی اور قوت سماعت سے محروم ہیں ۔یہ دونوں دوست جنرل ریزرو انجینئرنگ فورس میں بطور مزدور کام کرتے ہیں۔ وہ نہ تو بول پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ سن سکتے ہیں اور انہیں اشاروں میں پیغام دیناپڑتاہے اور ان کی بات بھی اشاروں میں ہی ہوتی ہے ۔تاہم دونوں نے ووٹ دینے کے بعد اپنی انگلیوں پر سیاہی کے نشان دکھائے اور خوشی کا اظہار کیا ۔