پلوامہ میں تیندئوں کی موجودگی سے لوگوں میں خوف،،زرعی سرگرمیاں متاثر

مشتاق الاسلام

پلوامہ//جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں تیندوئوں کے گھومنے سے لوگوں کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔بستیوں میں خونخوار جنگلی جانوروں کی سرگرمیوں اور بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں محکمہ وائلڈ لائف نے متعدد علاقوں میں خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے میں احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ ضلع پلوامہ میں تیندوؤں کی سرگرمیوں نے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔شوپیاں کے کیلر،جمہ پتھری، پلوامہ کے قصبہ یار،فریسی پورہ علاقوں میں جہاں جموں و کشمیر وائلڈ لائف محکمہ ان خونخوار جنگلی جانوروں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے وسائل کو متحرک کررہا ہیں،وہاں ضلع پلوامہ کے بڑی باغ،الوچی باغ،سانبورہ اور دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے خونخوار جنگلی جانوروں کی سرگرمیوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کی موجودگی سے وہ زرعی زمین پر کاشتکاری سے کترا رہے ہیں۔لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ تیندوے کے خوف کی وجہ سے نماز فجر اور عشاء کی نمازیں گھروں میں ہی ادا کررہے ہیں۔قابل زکر ہے کہ وسطی اور شمالی کشمیر میں جنگلی جانوروں کے حملوں کے بعد پہاڑی ضلع شوپیان کے درامڈورہ،کیگم اور ماز ہامہ علاقوں میں تیندوے نے ایک نابالغ سمیت چار افراد کو اپنا نوالہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں شدید زخمی کردیا ۔ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کی انسانی بستیوں میں داخل ہونے کی بنیادی وجوہات جنگلی جانور اپنے قدرتی رہائش گاہوں کے ضائع ہونا بتا رہے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کثیرجہتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے جنگلی جانوروں کے وسائل،پائیدار انتظام کیلئے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں جنگلات کی تیزی سے کٹائی ایسے خطرات میں ایک اہم وجہ بنی ہوئی ہے۔دریں اثنا محکمے وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی برسوں کے دوران تیزی سے جنگلات کی کٹائی نے تیندوے کے قدرتی رہائش گاہوں کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے،جس سے وہ خوراک اور پناہ گاہ کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی بستیاں جنگلی جانوروں کو اکثر خوراک کے ذرائع جیسے مویشیوں، پالتو جانوروں اور کوڑا کرکٹ تک آسان رسائی فراہم کرتی ہیں جو کہ تیندوے کو موقع پرست شکاریوں کے طور پر اپنی طرف راغب کررہے ہیں۔محکمہ وائلڈ لائف نے لوگوں خاص طور پر خواتین اور بچوں پر زور دیا ہے کہ وہ اکیلے جنگلات اور زرعی اراضی میں جانے سے گریز کریں۔انہوں نے صبح اور شام کے اوقات تیندوے کے حملوں کے خدشات کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم 3 سے 4 افراد کو حاضری کیلئے مقرر کرکے جنگلاتی چراگاہوں میں مویشیوں کی حفاظت اور دیگر ضروریات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے رہائش گاہوں کے قریب کچن کے فضلے کو ٹھکانے لگانے سے گریز کریں کیونکہ یہ کتوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے اور نتیجتاً تیندوے کو آبادی والے علاقوں کی طرف راغب ہونے کا موقع فراہم ہوسکتا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف نے جنگلاتی علاقوں کے قریب رہنے والے لوگوں کو بھی مشورہ دیاہے کہ وہ بیرونی سرگرمیاں دن کے اوقات تک محدود رکھیں اور اپنے گھروں کے آس پاس لگائے گئے پودوں کو صاف کردیں تاکہ تیندوے کے حملوں کو قابو کیا جاسکے۔