پرال کوٹ منڈی کی35فیصد آبادی قوت سماعت و گویائی سے محروم | علاقہ میں سڑک کا کوئی انتظام نہیں، لوگ روزانہ4کلو میٹر پیدل سفر کرنے پر مجبور

عشرت حسین بٹ

منڈی//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں واقع گاؤں پرال کوٹ کی35فیصد آبادی سننے اور بولنے کی طاقت سے محروم ہے اور اس علاقہ میں رہنے والے لوگوں کو سڑک نہ ہونے کے باعث روزانہ چار کلو میٹر پیدل سفر کر کے کھیت ساوجیاں منڈی کی سڑک پر آنا پڑتا ہےجہاں سے وہ منڈی یا پونچھ کا سفر اختیار کرتے ہیں ۔اگرچہ حکام کی جانب سے اس علاقہ میں جموں یا دہلی سے ماہر ڈاکٹروں کو اس طرح کے معاملے کو دریافت کرنے کے لیے بھیجا گیا مگر آج تک اس بات کا پتہ لگانے میں وہ ناکام ہی رہے ہیں۔ علاقہ سے تعلق رکھنے والے محمد اسماعیل نامی شخص کے مطابق ان کا علاقہ ڈھائی سو سے زائد نفوس آبادی پر مشتمل ہے جن میں سے 60سے زائد لوگ قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بچے پیدا ہوتے ہی سننے اور بولنے سے محروم ہوتے ہیں لیکن کچھ بچے پانچ چھ کلاسیں پڑھ کر اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر ان کے علاقہ کی کسی بھی لڑکی کی شادی کسی دوسرے علاقے میں ہوتی ہے تو اس عورت سے پیدا ہونے والے بچے بول بھی سکتے ہیں اور سن بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس اگر دوسرے علاقے کی لڑکی کو ان کے علاقہ میں شادی بیاہ کروا کر لایا جاتا ہے تو اس عورت سے پیدا ہونے والے بچے متعدد گونگے اور بہرے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کافی دفعہ اس علاقے میں ریاست اور بیرون ریاست سے ماہر ڈاکٹروں اور ماہر جینٹیکس کی ٹیمیں آئیں جنہوں نے اس بات پر کھوج بھی کی مگر ابھی تک اس معاملے میں وہ کسی بھی نتیجہ پر نہیں پہنچے ۔انہوں نے کہا کہ ان کا علاقہ اس قدر پسماندہ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی ان کے علاقے میں سڑک نہیں پہنچ پائی ۔انہوں نے کہا کہ انہیں چار کلو میٹر پیدل سفر کر کے منڈی پونچھ سڑک پر کھیت پہنچنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے متعدد خواتین زچگی کی حالت میں دم توڑ جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکار کی جانب سے گزشتہ برس ان کے علاقہ کی طرف جانے والی سڑک کا تعمیری کام بھی شروع کیا گیا تھا جسے عارضی طور پر محض ایک کلو میٹر تعمیر کیا گیا تھا،اب تعمیری کام بھی ایک سال سے بند پڑا ہے ۔انہوں نے ایل جی انتظامیہ اور ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ ان کے علاقہ کی طرف بھی نظر ثانی کی جائے اور اس علاقے میں بس رہے لوگوں کو جلد بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔