پرائیویٹ سکول نئے حربے استعمال نہ کریں

سرینگر// جموں کشمیر کے تسلیم شدہ نجی اسکولوں میں فیس مقرر کرنے والی کمیٹی نے پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے سرکاری اور عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزیوںکا سخت نوٹس لیتے ہوئے سکول منتظمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ نت نئے حربوں سے فیس وصولنے او رطلاب کی تعلیم میں فیس کے نام پر رخنہ ڈالنے کی کوششوں سے گریز کریں ۔فیس و ضوابط متعین کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین جسٹس(ر) مظفر حسین عطار  نے  جمعرات کو ایک حکم نامہ میں بتایا کہ انکی سربراہی والی کمیٹی کو مختلف ذرائع سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ پرائیویٹ سکول طلبہ اور والدین سے رفنڈیبل فیس کے نام سے رقم وصول کررہے ہیںجبکہ کچھ سکول طلبہ سے سال یا چھ ماہ کی پیشگی فیس مانگ رہے ہیں اور کچھ سکول فیس کی وصولی کے لئے بچو ں کی تعلیم میں یا تو رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں یارخنہ ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ جسٹس عطار نے کہا کہ’ رفنڈیبل فیس‘ کی کوئی قانونی جوازیت نہیں ہے، لہٰذا اس نام پر نہ کوئی زائد فیس وصول کی جاسکتی ہے اور نہ مانگی جاسکتی ہے ۔ حکمنامے میں جموںوکشمیر سکول ایجوکیشن قانون مجریہ2002کی د فعہ کی ذیلی دفعہ(E(کی شق21کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ نجی سکول صرف ٹیوشن فیس ، سالانہ فیس ، ٹرانسپورٹ فیس اور والنٹیر سپیشل فیس وصول کرسکتے ہیں جس کیلئے فیس مقرر کرنے والی کمیٹی سے منظور ی لینا لازمی ہے ۔ ا سکے علاوہ سکول منتظمین داخلی فیس یا کسی اور نام سے کوئی فیس وصول نہیں کرسکتے ۔ حکمنامے میں فیس کی واپسی کے نام پر رقومات وصولنے کی ممانت کی گئی ہے ۔ حکمنامے میں پرائیویرٹ سکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 6ماہ  یا سال بھر کی پیشگی فیس وصولنا بند کریں۔جسٹس (ر) عطارنے واضح کیا ہے کہ ٹیوشن فیس ماہانہ طور پر ادا کی جاسکتی ہے  اور نجی سکولوں کو  بقایا فیس وصولنے کے لئے طلبہ کو تعلیمی سہولیات سے محروم کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہو ںنے کہا ہے کہ سکول منتظمین کی جانب سے بقایا فیس وصولنے کے لئے بچوں کی تعلیم پر اثر انداز کرنا نہ صرف سپریم کو رٹ فیصلوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ غیر اخلاقی فعل بھی ہے۔