پاکستان سے آئی اور کشمیر میں بیاہی خواتین ذہنی تنائو کی شکار

سرینگر// وادی میں مقیم پاکستانی بہوئوں کی شناخت گرد رفتار میں کھو گئی ہے جبکہ سرحد عبور کرنے کے بعد نا ہی انہیں ریاستی شہریت فراہم کی گئی اور نا ہی انہیں واپس پاکستان یا پاکستانی زیر انتظام کشمیر لوٹنے کیلئے سفری دستاویزات فراہم کئے جا رہے ہیں۔سرینگر کے ایوان صحافت میں ان خواتین نے اپنی ردواد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں سفری دستاوزات فراہم کئے جائیں گے۔زیبا نامی ایک خاتون نے کہا’’ ہماری شادیاں کشمیری لڑکوں سے ہوئی ،جو نامسائد حالات کی وجہ سے کنٹرول لائن کو عبور کر گئے تھے اور پھر ایک پالیسی کے تحت واپس آئے، تو انکی بیوئیوں اور بچوں کو شہریت سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہرملک کا دستور ہے کہ اگر کوئی شہری کسی غیر شہری لڑکی سے شادی کرتا ہے تو کچھ عرصہ کے بعد اس کی بیوی کو بھی شہریت دی جاتی ہے،تاہم جموں کشمیر میں انہیں اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔زیبا نے کہا’’ہم اس بات سے بے خبر ہے کہ ہم کس ملک کے شہری ہے،کیونکہ پاکستان ہمیں جانے نہیں دیا جاتا اور جموں کشمیر میں شہریت نہیں دی جاتی۔ شمالی کشمیر میں اپنی زندگی کے ایام بسر کر رہی زیبا نے جذباتی انداز میں کہا’’ سفری دستاویزات کی عدم فراہمی کے نتیجے میں پاکستان سے آئی اور کشمیر میںبیاہی خواتین ذہنی تنائو کی شکار ہوگئی ہیں،اور5 لڑکیوں نے خود کشی بھی کی ہے۔‘‘ پریس کانفرنس میں موجود صفیہ نامی ایک اور خاتون نے کہا کہ جس طرح کارواں امن بس سروس شروع کی گئی ہے،اسی طرح ان خواتین کیلئے بھی مخصوص سروس شروع کی جانی چاہے،جن کی شادیاں کشمیری نوجوانوں سے ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا ’’المیہ یہ ہے کہ کئی ایک لڑکیوں کا طلاق ہوا ہے اور وہ اپنے سابق شوہروں سے بدستور رہنے کیلئے مجبور ہیں،کیونکہ انکے لئے دورا کوئی آسرا نہیں۔‘‘ صفیہ نے بتایا’’ بھارتی وزیر خارجہ سوشما سوراج خود ایک خاتون ہے،وہ ہمارے درد کو سمجھ سکتی ہے،کہ میکے سے دور خواتین کے دل پر کیا بیت جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی وہ اس انسانی مسئلہ کو انسانیت کی نگاہ سے حل کرنے میں پہل کریں۔ پریس کانفرنس مین موجود طیبہٰ نامی ایک اور خاتون  نے’’جدائی کو موت سے بد تر ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے واپس آنے کے دوران غلط راستے کا انتخاب کیا،اور غیر قانونی تارکین وطن ہے،اور اگر ایسا ہے تو’’ہمیں واپس کیوں بھیجا نہیں جاتا۔‘‘ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا’’ہم کون ہے،ہماری شناخت کیا ہے،ہماری پہچان کیا ہے؟۔‘‘ ان خواتین نے فوری طور پر انکے خلاف کیسوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’’اگر ہمارے شوہر دہشت گرد ہوتے تو وہ اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ واپس کیوں آتے۔‘‘