ٹی آر سی میں نادر قرآنی مخطوطات کی نمائش کا دوسرا دن

سرینگر//اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد قرآنی مخطوطات اور فن پاروں کی نمائش کی عوامی سطح پر خوب پذیرائی کی جارہی ہے۔ یہ نمائش ریاستی کلچرل اکیڈیمی کے اہتمام سے ۷؍ تا ۱۱؍ جون ۲۰۱۸ء ۔ٹی آر سی ، سرینگر میں منعقد ہورہی ہے ۔نمائش کی خاص بات ہرن کی کھال پہ تحریر قرآنِ شریف کی نسخے ہیں جو قریب ایک ہزار سال پرانے ہیں۔ اس کے ساتھ کشمیر اور وسط ایشیا میں مختلف ادوار میں کتابت شُدہ قرآنِ شریف کے نسخے ہیں جو زیبائش، خطاطی، طِلا کاری، تذہیب کاری اور جلد بندی کے نادر و نایاب نمونے ہیں۔ نمائش کے ددوسرے روز طلباء اور علماء کے ساتھ ساتھ ریاستی وزیر مملکت برائے تعلیم، سیاحت و ثقافت شکتی راج پری ہار، ایم ایل اے بھدرواہ دِلیپ پری ہار، محمد یوسف ٹینگ، پروفیسر رحمان راہی، غلام نبی خیال، جسٹس ریٹائرڈ مظفر جان، وجے دھر، پروفیسر شیخ محمد شفیع، پروفیسر محمد زمان آزردہ وغیرہ شامل ہیں۔ نمائش کے حاشئے میں خطاطی کی عملی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ تاکہ ہماری نئی نسل خطاطی کی بنیادی مبادیات سے آگاہ ہوسکے۔ اس موقعے پر ایک حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں نامور شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی صدارت پروفیسر رحمان راہی ہے کی جبکہ پروفیسر محمدزمان آزردہ تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ مشاعرے میں جن سرکردہ شعراء نے حصہ لیا اُن میںبشیر عارف، سیدسعد الدین سعددی، نذیر آزاد، ڈاکٹرشفق سوپوری، ایوب صابر، رخسانہ جبین، شبنم عشائی،ستیش وِمل،سلطان الحق شہیدی،ظریف احمد ظریف،میر شبیر احمد، ناظمہ منظور، بشیر چراغ،نادم بخاری وغیرہ شامل ہیں۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید افتخار نے انجام دئے۔