ٹوٹے پھوٹے نہیں، بھر پور منڈیٹ کی ضرورت

آپریشن آل اﺅٹ نا قابل ِقبول، انسانی حقوق پامالی کی حمایت نہیں کرسکتے: ڈاکٹر فاروق 

 
اننت ناگ//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو اکثریت کے ساتھ اگر کامیابی ملی تو ہلاکتوں کے حقائق جاننے کےلئے ’حقائق ومفاہمتی کمیشن ‘ کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔اننت ناگ میں ایک پارٹی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اللہ کرے ہماری پارٹی کو اکثریت حاصل ہو اورہمیں کسی سہارے کی ضرورت نہ پڑے، ہم حکومت سنبھالنے کے پہلے ہی دن ہلاکتوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن کا اعلان کرکے حقائق کو صرف جموں کشمیر کے لوگوں کے لئے نہیں، بلکہ ساری دنیا کے سامنے لائیں گے‘۔فوج کے’آپریشن آل آﺅٹ‘ کے بارے میں ڈاکٹر فاروق نے کہا’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگوں کو ا±ن کے گھروں کے اندر مارا جائے اور وہ طرح طرح سے ظلم کا شکار ہوں،ایسی نیشنل کانفرنس کی پالیسی کبھی نہیں رہی ہے، نیشنل کانفرنس کسی بھی قسم کے تشدد یا انسانی حقوق کی پامالی کی حمایت نہیں کرسکتی “۔ان کا کہناتھا’ہر ایک شہری آزاد ہے، ہم ایک آزاد ملک کا حصہ ہیں، اس لئے ہماری حکومت اظہار خیال کی آزادی کا پورا خیال رکھے گی‘۔اس سے قبل پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو کسی بھی صورت میں کشمیریوں اور پاکستان کیساتھ بات چیت کرنی ہے کیونکہ اسی صورتحال میں روشن اور تابناک مستقبل کی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں کے دل جیتنا اور کشمیریوں کی عزت اور وقار بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر فوجی سربراہ طالبان کیساتھ غیر مشروط مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں تو پھر کشمیر میں بات چیت کا راستہ اپنانے سے کیوں گریز کیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ چھاپہ مار کارروائیوں، مار دھارڈ اور ظلم ڈھانے سے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور مرکز کو ایسی کوشش کرنی چاہئے جس سے امن بحال ہو اور لوگوں میں اطمینان آئے تاکہ ریاست کے عوام امن اور چین کی زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کسی بھی سخت گیری پالیسی کی حمایت نہیں کرتی ، مرکز کو لوگوں کا غم و غصہ کم کرنے کیلئے اُن کے دکھ کو دیکھنا پڑے گا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ اگر نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو ہم یہاں سخت گیر پالیسیوں کی اجازت نہیں دیں گے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمیں مضبوط مینڈیٹ ملے گا، ٹوٹی پھوٹی حکومت میں ایسا کر پانا مشکل ہے۔