ٹول ٹیکس کا اطلاق،جی پی آر ایس کی تنصیب

سرینگر//وادی سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپوٹروں نے صوبائی ٹرانسپورٹ دفتر کو آن لائن کرنے اور مال بردار گاڑیوں میں ’’جی پی آر ایس‘‘ نصب کرنے اور شاہراہ پر ٹول ٹیکس کی وصولیابی کے خلاف 12جون کو وادی گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر انکے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا اور سرکار نے اپنے احکامات واپس نہیں لئے تو ٹرانسپوٹر غیر معینہ ہڑتال پر جائیں گے۔ انتظامیہ کی طرف سے تمام گاڑیوں میں جی پی آر ایس نصب کرنے،اور آر ٹی ائو دفتر کو آن لائن کرنے کے خلاف کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن نے 12 جون بدھ کو وادی گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔ سنیئر ٹرانسپورٹ لیڈر اور کشمیر منی بس فیڈریشن کے صدر شیخ محمد یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سرینگر میں تمام ٹرانسپورٹ انجمنوں کی میٹنگ کے دوران متفقہ طور پر12جون کو ہڑتال کرنے پر اتفاق پایا گیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ٹرانسپورٹ دفتر(آر ٹی ائو) کو آن لائن کیا گیا ہے،جبکہ محکمہ کے پاس افرادی قوت اور تجربے میں کمی کے نتیجے میں ٹرانسپوٹروں کو دستاویزات کی تجدید کرنے میں کئی دنوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے،اور اس عرصے میں اپنی گاڑیاں بھی خالی ہی کھڑی کرنی پڑتی ہے،اور انہیں کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شیخ محمد یوسف نے کہا کہ بیشتر مالکان نے بنکوں سے قرضے لیکر گاڑیاں خریدی ہیں،اور اس میں جب انہیں خالی بیٹھنا پڑتا ہے تو بنکوں کے سود میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میٹنگ میں شاہراہ پر نئے ٹول ٹیکس کے معاملے کو بھی زیر غور لایا گیا،جس کے دوران یک طرفہ’’285روپے کی جبری ٹیکس وصولیابی‘‘ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فوری طور پر اس ٹیکس کی وصولیابی کے حکم نامہ کو منسوخ کیا جانا چاہے۔شیخ محمد یوسف نے بتایا کہ سرکار کی طرف سے مال گاڑیوں میں جی پی آر ایس نصب کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں،اور اس کیلئے صرف ایک ڈیلر کا انتخاب کیا گیا،جبکہ گاڑیوں کو ان آلات سے لیس کرنے کیلئے16سے 20ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کشمیر منی بس فیڈریشن کے صدر نے مزید بتایا کہ ایک اور حکم نامہ میں گاڑیوں میں’’گلابی بٹن‘‘ نصب کرنے کا بھی حکم نامہ جاری کیا گیا،تاہم کئی ٹرانسپوٹروں کی گاڑیاں کنڈم ہو رہی ہے،اور ان میں ان آلات کو لگانے سے بے جا ان ٹرانسپوٹروں کو نقصانات سے دو چار کیا جا رہا ہے۔ شبیر احمد مٹھ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں مختلف ترانسپورٹ انجمنوں،جن میںکشمیر موٹر ڈرائیورس ایسو سی ایشن،ویسٹرن بس سروس،کشمیر منی بس فیڈریشن، کشمیر ٹورسٹ ٹیکس آپریٹرس ایسو سی ایشن،کشمیر آٹو رکھشا ایسو سی ایشن،نارتھ کشمیر ٹرانسپورت کارڈی نیشن کمیٹی،ساوتھ کشمیر ٹرانسپوتروس ایسو سی ایشن سمیت دیگر ٹرانسپورٹ انجمنوں نے شرکت کی،جس کے دوران کشمیر ٹیکسیوں کو لداخ میں مقامی سیائٹ سین پر جانے سے منع کرنے کے فیصلے کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرانسپوٹروں نے یک زبان ہوکر2014میں تباہ ہوئی گاڑیوں کے مالکان کو معاوضہ ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے،بٹہ مالو سے’’آوارہ‘‘ سومو اور تویرا گاڑیوں کو چلنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے تحت پہلے ہی ان گاڑیوں کے  بٹہ مالو میں چلنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،تاہم اس کے باوجود ابھی تک یہ گاڑیاں وہاں سے چلتی ہے۔ٹرانسپوٹروں نے ریل سروس میں کمی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ریل سروس کے نتیجے میں ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اورٹرانسپورٹ  شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔